اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 242
اصحاب بدر جلد 5 242 فائدہ ہو گیا کہ دو مسلمان روحیں قریش کے ظلم سے نجات پاگئیں 561 مدینہ میں مواخات حضرت عتبه بن غزوان اور ان کے آزاد کردہ غلام حباب نے جب مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو قبا ( یہ بھی ایک روایت آتی ہے الطبقات الکبریٰ میں) کے مقام پر انہوں نے حضرت عبد اللہ بن سلمہ عجلانی کے ہاں قیام کیا اور جب حضرت عتبہ مدینہ پہنچے تو انہوں نے حضرت عباد بن بشر کے ہاں قیام کیا۔رسول اللہ صلی العلیم نے حضرت عُتبہ بن غزوان اور حضرت ابودجانہ کے درمیان مؤاخات قائم فرمائی تھی۔562 الله سة نخلہ کی طرف سریہ آنحضرت صلی الی ایم نے سن 2 ہجری میں اپنے پھوپھی زاد بھائی حضرت عبد اللہ بن جحش کی قیادت میں ایک سر یہ نخلہ کی طرف بھیجا۔حضرت عُتبہ بھی اس سر یہ میں شامل تھے۔اس سریہ کا ذکر پہلے بھی کچھ حد تک ایک صحابی کے ذکر میں بیان ہو چکا ہے۔بہر حال اب کچھ مختصر بھی بیان کر دیتا ہوں۔سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے یہ لکھا ہے کہ: آنحضرت صلی الی یکم نے یہ ارادہ فرمایا کہ قریش کی حرکات وسکنات کا زیادہ قریب سے ہو کر علم حاصل کیا جاوے تاکہ اس کے متعلق ہر قسم کی ضروری اطلاع بر وقت میسر ہو جائے اور مدینہ ہر قسم کے اچانک حملوں سے محفوظ رہے۔چنانچہ اس غرض سے آپ مکئی ملی ہم نے آٹھ مہاجرین کی ایک پارٹی تیار کی اور مصلحتاً اس پارٹی میں ایسے آدمیوں کو رکھا جو قریش کے مختلف قبائل سے تعلق رکھتے تھے تاکہ قریش کے مخفی ارادوں کے متعلق خبر حاصل کرنے میں آسانی ہو اور اس پارٹی پر آپ نے اپنے پھوپھی زاد بھائی عبد اللہ بن جحش کو امیر مقرر فرمایا۔آپ صلی علیم نے اس سریہ کو روانہ کرتے ہوئے اس سریہ کے امیر کو یہ نہیں بتایا کہ تمہیں کہاں اور کس غرض سے بھیجا جارہا ہے۔چلتے ہوئے ان کے ہاتھ میں ایک بند ، سر بمہر خط دے دیا اور فرمایا کہ اس خط میں تمہارے لیے ہدایات درج ہیں۔آپ صلی علی کرم نے فرمایا کہ جب مدینہ سے دو دن کا سفر طے کر لو تو پھر اس خط کو کھول کر اس کی ہدایات کے مطابق عمل درآمد کرنا۔جب دو دن کا سفر طے کر چکے تو عبد اللہ نے آنحضرت صلی علیم کے فرمان کو کھول کر دیکھا تو اس میں یہ الفاظ درج تھے کہ تم مکہ اور طائف کے درمیان وادی نخلہ میں جاؤ اور وہاں جاکر قریش کے حالات کا علم لو اور پھر ہمیں اطلاع لا کر دو۔آپ صلی علی کی نے خط کے نیچے یہ ہدایت بھی لکھی تھی کہ اس مشن کے معلوم ہونے کے بعد اگر تمہارا کوئی ساتھی اس پارٹی میں شامل رہنے سے متامل ہو اور واپس چلے آنا چاہے یعنی جب یہ خط دیکھ لو اور پڑھ لو اور اس گروہ کا یا یہ سر یہ جو بھیجا گیا ہے اس کا کیا مقصد ہے تو ان میں جو رض