اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 237
237 اصحاب بدر جلد 5 ہوئے تھے تا کہ جان دینے کے سوا بھاگنے کا ان کو خیال بھی نہ آئے۔ایک لاکھ بیس ہزار آدمی ایسا تھا جن کو اس لیے باندھا گیا تھا کہ صرف انہوں نے لڑنا ہے اور مرنا ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں اور چالیس ہزار آدمیوں نے خود کو اپنی پگڑیوں کے ساتھ باندھا ہوا تھا اور اسی ہزار سوار اور اسی ہزار پیدل تھے۔بے شمار پادری لشکر کو جوش دلانے کے لیے رومی لشکر کے ساتھ تھے۔اسی جنگ کے دوران حضرت ابو بکر جمادی الاولی میں بیمار ہوئے اور جمادی الاخریٰ میں وفات پائی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ ایک ہزار صحابہ شامل تھے جن میں سے ایک سو بدری تھے حضرت خالد نے اس جنگ میں مسلمانوں کے لشکر کو بہت سارے دستوں میں تقسیم کر دیا جن کی تقسیم چھتیس سے لے کر چالیس تک بیان کی جاتی ہے لیکن ایک ہی امیر کے تحت لڑ رہے تھے۔ان دستوں میں سے ایک دستے کے نگران حضرت عقبہ بن ربیعہ تھے۔حضرت خالد نے کہا کہ دشمن کی تعداد بہت زیادہ ہے لیکن ہماری اس ترتیب کی وجہ سے مسلمانوں کا لشکر دشمن کو بظاہر زیادہ نظر آئے گا۔اسلامی لشکر کی اہمیت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ تقریباً ایک ہزار ایسے بزرگ اس لشکر میں تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ نام کا چہرہ مبارک دیکھا ہوا تھا۔سو ایسے صحابہ تھے جو غزوہ بدر میں رسول اللہ علی الم کے ہمراہ شریک ہو چکے تھے۔فریقین میں بڑی خونریز جنگ کا آغاز ہوا۔اسی دوران مدینہ سے ایک قاصد خبر لے کر آیا کوئی خبر لے کر آیا۔سواروں نے اسے روکا تو اس نے بتایا کہ سب خیریت ہے مگر اصل واقعہ یہ تھا کہ وہ حضرت ابو بکر کی وفات کی خبر لایا تھا۔لوگوں نے قاصد کو حضرت خالد کے پاس پہنچایا اور اس نے چپکے سے حضرت ابو بکر کی وفات کی خبر دی اور فوج کے لوگوں سے جو کچھ کہا وہ بھی بتادیا کہ میں نے ان کو کچھ نہیں بتایا۔حضرت خالد بن ولید نے اس سے خط لے کر اپنے ترکش میں تیر رکھنے کی جگہ میں ڈال لیا، کیونکہ انہیں اندیشہ تھا کہ اگر یہ خبر لشکر کو معلوم ہو گئی تو پھر ابتری پھیلنے کا خدشہ ہے۔مسلمان شاید اس طرح نہ لڑیں۔بہر حال مسلمان ثابت قدم رہے اور شام تک خوب لڑائی ہوئی تاہم رومی لشکر نے پھر بھاگنا شروع کر دیا۔اس جنگ میں ایک لاکھ سے زائد رومی فوجی ہلاک ہوئے اور کل تین ہزار مسلمان اس جنگ میں شہید ہوئے۔ان شہداء میں حضرت عکرمہ بن ابو جہل بھی تھے۔قیصر کو جب اس ہزیمت کی خبر ملی تو وہ اس وقت حمص میں مقیم تھا وہ فور وہاں سے نکل کے بھاگ گیا۔فتح یرموک کے بعد اسلامی فوجیں پورے ملک شام میں پھیل گئیں اور قنشرين، انطاکیه، جُوْمه،سرمين، تيزين، قُوْرُسُ، تَل عَزَاز ، دُلُوك، رغبَان وغیرہ مقامات پر نہایت آسانی سے فتح حاصل کی۔555