اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 234 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 234

اصحاب بدر جلد 5 234 عتبان بن مالك " تھے لیکن صحیح یہ ہے کہ حضرت عمر کے پڑوسی اوس بن خولی تھے۔بہر حال حضرت عمرؓ نے تو اس کی روایت میں جو بیان فرمایا وہی بیان ہوتا ہے۔نابینائی کی وجہ سے گھر میں نماز با جماعت کا اہتمام کرنے کی اجازت 550 ایک روایت میں ہے کہ حضرت عتبان بن مالک نے جب ان کی بینائی چلی گئی تو نبی کریم صلی الیم سے نماز با جماعت سے تخلف کی اجازت چاہی کہ آنہیں سکتا، مسجد میں نہیں آسکتا مجھے اجازت دی جائے۔آپ نے فرمایا کیا تم اذان کی آواز سنتے ہو ؟ حضرت عتبان نے کہا جی۔اس پر رسول اللہ صلی العلیم نے آپ کو اس کی اجازت نہیں دی۔یہ مشہور حدیث ہے اکثر پیش کی جاتی ہے۔لیکن اس کی کچھ تفصیل بھی ہے۔صحیح بخاری کی روایت سے پتا چلتا ہے کہ بعد میں نبی کریم صلی علیم نے حضرت عتبان ہو گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت مرحمت فرمائی تھی۔شروع میں منع کیا پھر اجازت دے دی۔چنانچہ بخاری کی روایت میں ہے کہ حضرت عتبان بن مالک اپنی قوم کی امامت کیا کرتے تھے اور وہ نابینا تھے اور یہ کہ انہوں نے رسول اللہ صلی العلیم سے کہا کہ یارسول اللہ ! اندھیرا اور سیلاب ہوتا ہے۔بارش زیادہ ہو جاتی ہے۔اندھیرا ہوتا ہے۔نیچے وادی میں پانی بہ رہا ہو تا ہے۔میں نابینا ہوں۔اس لیے یارسول اللہ ! میرے گھر میں نماز پڑھیے جسے میں نماز گاہ بناؤں۔ایک دن حاضر ہوئے اور یہ کہا میرا یہاں آنا مشکل ہو جاتا ہے آپ میرے گھر آئیں اور میرے گھر میں میں نے ایک جگہ بنائی ہے وہاں نماز پڑھ لیں۔اس پر رسول اللہ صلی علیکم ان کے پاس تشریف لائے اور پوچھا تم کہاں پسند کرتے ہو کہ میں نماز پڑھوں ؟ انہوں نے گھر میں ایک طرف اشارہ کیا اور رسول اللہ صلی علیم نے اس جگہ نماز پڑھی۔551 گھروں میں نماز سنٹر بنانے کا ارشاد پس اگر خاص حالات میں گھر میں نماز کی اجازت دی تو وہاں بھی باقی روایتوں سے ثابت ہو تا ہے کہ آپ لوگوں کو جمع کر کے وہاں نماز پڑھایا کرتے تھے کیونکہ موسم کی سختی کی وجہ سے، راستے کی روک کی وجہ سے لوگ مسجد میں جا نہیں سکتے تھے۔تو عذر کوئی نہیں۔اگر بعد میں اجازت دی بھی تھی تو اس لیے کہ وہاں ان کے گھر کے ایک حصہ میں باجماعت نماز ہو۔چنانچہ اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب صحیح بخاری کی کتاب الاذان کے بَاب الرَّحْصَةُ فِي الْمَطْرِ وَالْعِلَّةِ أَنْ يُصَلِّي فِي دخله یعنی بارش یا کسی اور سبب سے اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھنے کی اجازت کی شرح میں تحریر فرماتے ہیں که امام موصوف ( یعنی امام بخاری) معذوری کے وہ حالات پیش کر رہے ہیں جن میں باجماعت نماز پڑھنے مستثنی کیا جانا چاہیے تھا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی گھر میں تنہا پڑھنے کی اجازت نہیں دی، یہ اذن نہیں دیا کہ گھر میں اکیلے پڑھ لیا کرو) حالا نکہ آپ صلی ہی تم ہمیشہ حتی الامکان احکام کے نفاذ میں سہولت مد نظر رکھتے تھے۔یہی ہوتا تھا کہ دین کے معاملے میں جہاں آسانی پید ا ہو سکتی