اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 232 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 232

اصحاب بدر جلد 5 232 جھڑپ ہوئی اور دونوں نے ایک دوسرے کو سخت زخمی کیا۔پھر ہم ولید کی طرف متوجہ ہوئے اور اس کو مار ڈالا اور عبیدہ کو ہم میدان جنگ سے اٹھا کے لے آئے۔543 مبارزت کے دوران عتبہ نے حضرت عبیدہ بن حارث کی پنڈلی پر کاری ضرب لگائی تھی جس سے ان کی پنڈلی کٹ گئی تھی۔پھر آپ کو رسول اللہ صلی الی یکم نے اٹھوایا اور جنگ بدر ختم ہونے کے بعد مقام صفرا، جو بدر کے نزدیک ایک مقام ہے وہاں آپ کا انتقال ہو گیا اور وہیں ان کو دفن کر دیا گیا۔54 ایک روایت کے مطابق جب عبیدہ کی پنڈلی کٹ چکی تھی اور اس سے گودا بہہ رہا تھا۔تب صحابہ حضرت عبیدہ کو آنحضرت صلی علیکم کے پاس لائے تو انہوں نے عرض کیا کہ یار سول اللہ ! کیا میں شہید نہیں ہوں ؟ جنگ میں زخمی ہوئے تھے۔اس وقت فوری طور پر شہید نہیں ہوئے تھے۔آپ صلی الی یکم نے فرمایا کہ کیوں نہیں، تم شہید ہو۔ایک روایت کے مطابق جب حضرت عبیدہ بن حارث کو رسول اللہ صلی عوام کی خدمت میں لایا گیا تو رسول اللہ صلی الم نے اپنے زانوں پر ان کا سر رکھا پھر حضرت عبیدہ نے کہا کاش کہ ابو طالب آج زندہ ہوتے تو جان لیتے کہ جو وہ اکثر کہا کرتے تھے اس کا ان سے زیادہ میں حق دار ہوں۔اور وہ یہ کہا کرتے تھے کہ : وَنُسْلِمُهُ حَتَّى نُصْرَعَ حَوْلَهُ وَنَذْهَلَ عَنْ أَبْنَاءَنَا وَ الْحَلَائِل کہ یہ جھوٹ ہے کہ ہم محمد کو تمہارے سپر د کر دیں گے۔ایسا تبھی ممکن ہے کہ جبکہ ہم آپ کے ارد گرد سے پچھاڑ دیئے جائیں اور ہم اپنے بیوی بچوں سے بھی غافل ہو جائیں۔یہ جذبات تھے ان لوگوں کے۔شہادت کے وقت حضرت عبیدہ بن حارث کی عمر 63 سال 227 545 رض حضرت عتبان بن مالک حضرت عتبان بن مالك حضرت عتبان بن مالك کا تعلق خزرج کی ایک شاخ بنو سالم بن عوف سے تھا۔رسول اللہ صلی علیم نے آپ کے اور حضرت عمرؓ کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔آپ غزوہ بدر ، اُحد اور خندق میں شامل ہوئے۔رسول اللہ صلی علیم کی حیات مبارکہ میں آپ کی بینائی جاتی رہی تھی۔آپ کی وفات حضرت معاویہؓ کے دور حکومت میں ہوئی۔6 546