اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 230 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 230

اصحاب بدر جلد 5 230 جسے حضرت مسطح بن اثاثہ نے اٹھایا۔اس سریہ کا مقصد یہ تھا یعنی کہ جو بھیجا گیا تھا لشکر یا سواروں کا ایک گروپ، کہ قریش کے ایک تجارتی قافلے کو راہ میں روک لیا جائے۔قریش کے قافلے کا امیر ابوسفیان تھا۔بعض کے مطابق عکرمہ بن ابو جہل اور بعض کے مطابق محرز بن حفص تھا۔اس قافلے میں دوسو آدمی تھے یعنی کافروں کے قافلے میں جو تجارتی مال لے کر جارہے تھے۔صحابہ کی اس جماعت نے رابغ وادی پر اس قافلے کو جالیا۔اس مقام کو وڈان بھی کہا جاتا ہے۔دونوں فریقوں کے درمیان تیر اندازی کے علاوہ کوئی مقابلہ نہ ہوا اور لڑائی کے لئے باقاعدہ صف بندی نہ ہوئی۔وہ صحابی جنہوں نے مسلمانوں کی طرف سے پہلا تیر چلا یا وہ حضرت سعد بن ابی وقاص تھے اور یہ وہ پہلا تیر تھا جو اسلام کی طرف سے چلایا گیا۔اس موقع پر حضرت مقداد بن اسود اور حضرت عیینہ بن غزوان ( ابن ہشام اور تاریخ طبری میں عتبہ بن غزوان بھی ہے ) لکھا ہے مشرکوں کی جماعت سے نکل کر مسلمانوں سے آملے کیونکہ ان دونوں نے اسلام قبول کیا ہوا تھا اور وہ مسلمانوں کی طرف جانا چاہتے تھے۔حضرت عبیدہ بن حارث کی سرکردگی میں یہ اسلام کا دوسراسر یہ تھا۔تیر اندازی کے بعد دونوں فریق پیچھے ہٹ گئے کیونکہ مشرکین پر مسلمانوں کا اس قدر رعب پڑا کہ انہوں نے سمجھا کہ مسلمانوں کا بہت بڑا لشکر ہے اور انکو مدد پہنچ رہی ہے لہذا وہ لوگ خوفزدہ ہو کر پسپا ہو گئے اور مسلمانوں نے بھی ان کا پیچھا نہیں کیا۔540 گئے تو تھے لیکن یہ نہیں کہ کوئی پیچھے گئے ہوں اور باقاعدہ جنگ کی ہو۔دونوں طرف سے حملہ ہوا۔اُنہوں نے بھی حملہ کیا انہوں نے بھی تیر چلائے اُنہوں نے بھی تیر چلائے اور آخر جب وہ کفار پیچھے ہٹ گئے تو مسلمان واپس آگئے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت کی کتاب میں یہ لکھا ہے کہ: "غزوہ و دان سے واپس آنے پر ماہ ربیع الاول کے شروع میں آپ نے اپنے ایک قریبی رشتہ دار عبیدہ بن الحارث مطلبی کی امارت میں ساٹھ شتر سوار مہاجرین کا ایک دستہ روانہ فرمایا۔اس مہم کی غرض بھی قریش مکہ کے حملوں کی پیش بندی تھی۔" غرض بیان کر دی ہے کہ قریش مکہ کے حملوں کی پیش بندی تھی۔" چنانچہ جب عبیدہ بن الحارث اور ان کے ساتھی کچھ مسافت طے کر کے ثنیۃ المڑہ کے پاس پہنچے تو ناگاہ کیا دیکھتے ہیں کہ قریش کے دو سو مسلح نوجوان عکرمہ بن ابو جہل کی کمان میں ڈیرہ ڈالے پڑے ہیں۔فریقین ایک دوسرے کے سامنے ہوئے اور ایک دوسرے کے مقابلہ میں کچھ تیر اندازی بھی ہوئی لیکن پھر مشرکین کا گروہ یہ خوف کھا کر کہ مسلمانوں کے پیچھے کچھ کمک مخفی ہو گی۔"کچھ اور ہو سکتا ہے، لوگ آرہے ہوں، کوئی لشکر ہو۔ان کے مقابلہ سے پیچھے ہٹ گیا اور مسلمانوں نے ان کا پیچھا نہیں کیا۔البتہ مشرکین کے لشکر میں سے دو شخص مقداد بن عمر و اور عتبہ بن غزوان عکرمہ بن ابو جہل کی کمان سے خود بخود بھاگ کر مسلمانوں کے ساتھ آملے اور لکھا ہے کہ وہ اسی غرض سے قریش کے ساتھ نکلے تھے کہ موقعہ پا کر مسلمانوں میں آملیں کیونکہ وہ دل سے مسلمان تھے مگر بوجہ اپنی کمزوری کے قریش سے