اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 220 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 220

اصحاب بدر جلد 5 220 کوئی کام کرتا دیکھتے ہیں اس رنگ میں خود کرنے لگ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہی اسلام کا حکم ہے۔یہ لوگ چونکہ مدینہ میں بہت کم آتے ہیں اور انہیں وہاں رہ کر ہماری نمازیں دیکھنے کا موقع نہیں ملتا تو اس لئے میں نے یہی خیال کیا کہ اب حج کے موقع پر انہوں نے مجھے دور کعت نماز پڑھتے دیکھا، قصر کرتے دیکھا تو اپنے علاقے میں جاتے ہی کہنے لگ جائیں گے کہ خلیفہ کو ہم نے دور کعت نماز پڑھاتے دیکھا ہے اس لئے اسلام کا اصل حکم یہی ہے کہ دور کعت نماز پڑھی جائے۔حضرت عثمان نے کہا کہ جب یہ اپنے علاقے میں جا کے بتائیں گے تو لوگ چونکہ اس بات سے ناواقف ہوں گے کہ دور کعت نماز سفر کی وجہ سے پڑھی گئی ہے اس لئے اسلام میں اختلاف پیدا ہو جائے گا اور لوگوں کو ٹھو کر لگے گی۔یہ حضرت عثمان نے اجتہاد کیا۔تو حضرت عثمان نے کہا پس میں نے مناسب سمجھا کہ چار رکعت نماز پڑھا دوں تا کہ نماز کی چار رکعت انہیں نہ بھولیں۔باقی رہا یہ کہ میرے لئے چار رکعت پڑھنا جائز کس طرح ہو گیا۔اس کا بھی حضرت عثمان نے جواب دیا کہ میں نے کیوں چار رکعت پڑھیں اور کیوں میرے لئے یہ جائز ہے۔آپ نے اس کا جواب دیا کہ میں نے یہاں شادی کی ہوئی ہے ، مکہ میں میری شادی ہوئی ہوتی ہے اور بیوی کا سارا خاندان وہاں تھا ، سسرال وہیں تھا۔چونکہ بیوی کا وطن بھی اپنا ہی وطن ہوتا ہے، اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ مسافر نہیں ہوں اور مجھے پوری نماز پڑھنی چاہیئے۔اپنے اجتہاد کی یہ ایک اور دلیل انہوں نے دی۔غرض حضرت عثمان نے چار رکعت نماز پڑھانے کی یہ وجہ بیان فرمائی اور اس توجیہہ کا مقصد آپ نے یہ بتایا کہ باہر کے لوگوں کو دھو کہ نہ لگے اور وہ اسلام کی صحیح تعلیم کو سمجھنے میں ٹھو کر نہ کھائیں۔ان کی یہ بات بھی بڑی لطیف تھی، بڑی باریک گہری بات تھی اور جب صحابہ نے سنی تو اکثر لوگ سمجھ گئے اور بعض نہ سمجھے مگر خاموش رہے۔مگر دوسرے لوگوں نے جو فتنہ پیدا کرنے والے تھے انہوں نے شور مچا دیا اور کہنا شروع کر دیا کہ حضرت عثمان نے رسول کریم صلی للی نام کی سنت کے خلاف عمل کیا ہے۔چنانچہ جو لوگ شور مچانے والے تھے ، فتنہ پر داز تھے انہی میں سے کچھ لوگ حضرت عبد اللہ بن مسعود کے پاس بھی پہنچے اور کہنے لگے آپ نے دیکھا کہ آج کیا ہوا۔رسول کریم صلی علی کم کیا کیا کرتے تھے اور عثمان نے آج کیا کیا۔ان لوگوں نے عبد اللہ بن مسعودؓ کو کہا کہ رسول کریم صلی اللہ ہم تو حج کے دنوں میں مکہ آکر صرف دور کعتیں پڑھایا کرتے تھے مگر حضرت عثمان نے چار رکعتیں پڑھائیں۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے یہ سن کر کہا کہ دیکھو ہمارا کام یہ نہیں کہ ہم فتنہ اٹھائیں کیونکہ خلیفہ وقت نے کسی حکمت کے ماتحت ہی ایسا کام کیا ہو گا، کوئی حکمت ہو گی جو ہمیں سمجھ نہیں آئی۔پس تم فتنہ نہ اٹھاؤ۔حضرت عبد اللہ بن مسعود نے کہا کہ میں نے بھی ان کی اقتداء میں چار رکعتیں ہی پڑھی ہیں۔میں بھی نماز پڑھنے والوں میں شامل تھا اور میں نے بھی چار رکعتیں ہی پڑھی ہیں مگر نماز کے بعد میں نے ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگ لی کہ خدایا تو ان چار رکعتوں میں سے میری وہی دور کعتیں قبول فرمانا جو رسول کریم صلی اللی کام کے ساتھ ہم پڑھا کرتے تھے اور باقی دور کعتوں کو میری نماز