اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 196 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 196

196 اصحاب بدر جلد 5 تھا۔ہم نے ان سے کہا اے ابو جابر ! آپ ہمارے سرداروں میں سے ایک ہیں اور ہمارے شرفاء میں سے ہیں۔ان کی کنیت ابو جابر تھی اس لیے ان کو ابو جابر بھی کہتے تھے۔تو کہتے ہیں ہم نے ان سے کہا کہ اے ابو جابر ! آپ ہمارے سرداروں میں سے ایک ہیں اور ہمارے شرفاء میں سے ہیں اور ہم نہیں چاہتے کہ آپ جہنم کا ایندھن بنیں۔پس ہم نے انہیں اسلام کی دعوت دی اور رسول اللہ صلی علیکم کے پاس عقبہ مقام میں جانے کی خبر دی۔وہ کہتے ہیں انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور بیعت عقبہ میں شامل ہوئے اور نقیب مقرر ہوئے۔439 حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرے والد اور میرے دوماموں اصحاب عقبہ میں سے ہیں۔ابن عیینہ ایک راوی ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ان میں سے ایک حضرت براء بن مَغْرُور ہیں۔440 بیعت عقبہ ثانیه عقبہ ثانیہ کے بارے میں سیرت خاتم النبیین سے میں ایک صحابی کے ذکر میں بلکہ دو کے ذکر ں پہلے ایک تفصیل بیان کر چکا ہوں۔441 یہاں تھوڑا سا حصہ دوبارہ بیان کرتا ہوں۔بیعت عقبہ ثانیہ کے بارے میں حسیرت خاتم النبیین میں جو لکھا گیا ہے اس میں جو حضرت عبد اللہ بن عمرو سے متعلقہ حصہ ہے ، بیان کرتا ہوں۔تیرہ نبوی کا جو مہینہ ہے ذی الحجہ ، اس میں حج کے موقعے پر اوس اور خزرج کے کئی سو آدمی مکے میں آئے۔ان میں ستر شخص ایسے شامل تھے جو یا تو مسلمان ہو چکے تھے اور یا اب مسلمان ہو نا چاہتے تھے اور آنحضرت صلی اللی کام سے ملنے کے لیے مکے آئے تھے۔اس موقعے پر ایک اجتماعی اور خلوت کی ملاقات کی ضرورت تھی اس لیے مراسم حج کے بعد ماہ ذی الحجہ کی وسطی تاریخ مقرر کی گئی۔کہ اس دن نصف شب کے قریب یہ سب لوگ گذشتہ سال والی گھائی میں آپ صلی علیکم کو آکر ملیں۔یہ مقرر کیا گیا تا کہ اطمینان اور یکسوئی کے ساتھ علیحد گی میں بات چیت ہو سکے۔اور آپ نے انصار کو تاکید فرمائی کہ اکٹھے نہ آئیں بلکہ ایک ایک دو دو کر کے وقت مقررہ پر گھائی میں پہنچ جائیں اور سوتے کو نہ جگائیں اور نہ غیر حاضر کا انتظار کریں۔چنانچہ جب مقررہ تاریخ آئی تو رات کے وقت جبکہ ایک تہائی رات جا چکی تھی آنحضرت صلی اللہ علم اکیلے گھر سے نکلے اور راستہ میں اپنے چاعباس کو ساتھ لیا جو ابھی تک مشرک تھے مگر آپ سے محبت رکھتے تھے اور خاندان ہاشم کے رئیس تھے اور پھر دونوں مل کر اس گھائی میں پہنچے۔ابھی زیادہ دیر نہ ہوئی تھی کہ انصار بھی ایک ایک دو دو کر کے آپہنچے۔یہ ستر اشخاص تھے اور اوس اور خزرج دونوں قبیلوں سے تعلق رکھنے والے تھے۔سب سے پہلے عباس نے گفتگو شروع کی اور کہا کہ اے خزرج کے گروہ ! محمد صلی ال کی اپنے خاندان میں معزز و محبوب ہے اور وہ خاندان آج تک اس کی حفاظت کا ضامن رہا ہے اور ہر خطرہ کے وقت میں