اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 195
433 195 اصحاب بدر جلد 5 اس وقت ان کی عمر 64 سال تھی۔آپ کی نماز جنازہ حضرت عثمان نے پڑھائی۔219 نام و نسب و کنیت حضرت عبد اللہ بن عمرو حضرت عبد اللہ کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو سلمہ سے تھا۔آپ کے والد کا نام عمر و بن حرام اور والدہ کا نام رباب بنت قیس تھا۔434 حضرت عبد اللہ بن عمر و ہجرت نبوی سے تقریباً چالیس سال قبل پید اہوئے۔435 یعنی ہجرت کے وقت ان کی عمر چالیس سال تھی۔حضرت عبد اللہ بن عمرو ایک مشہور صحابی حضرت جابر بن عبد اللہ کے والد تھے۔436 حضرت عبد اللہ بن عمر و حضرت عمر و بن بجموح کے برادر نسبتی تھے۔437 بیعت عقبہ ثانیہ اور بارہ نقیبوں میں سے ایک حضرت عبد اللہ بن عمر و بیعت عقبہ ثانیہ میں شامل تھے اور رسول اللہ صلی ال نیم کے مقرر کردہ بارہ نقیبوں میں سے ایک تھے۔آپ غزوہ بدر میں شامل ہوئے اور غزوہ اُحد میں شہید ہوئے۔بعض کے نزدیک حضرت عبد اللہ بن عمر و غزوہ اُحد میں مسلمانوں کی طرف سے سب سے پہلے شہید تھے۔438 قبول اسلام ان کے ایمان لانے کا واقعہ اس طرح بیان ہوتا ہے کہ حضرت کعب بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی علیم سے ایام تشریق یعنی ایام حج کے آخری تین دن جو گیارہ سے تیرہ ذوالحجہ تک ہے اس کے درمیانی دن عقبہ میں ملنے کا وعدہ کیا۔عقبہ مکہ اور منی کے درمیان واقع ہے پہلے بھی بیان کر چکا ہوں۔جب ہم حج سے فارغ ہوئے اور وہ رات آگئی جس کا ہم نے رسول اللہ صلی علیم سے وعدہ کیا تھا تو ہمارے ساتھ عبد اللہ بن عمرو بھی تھے جو ہمارے سرداروں میں سے ایک سر دار تھے اور ہمارے شرفاء میں سے تھے۔ہم نے انہیں اپنے ساتھ لیا۔ہم نے اپنے لوگوں میں سے مشرکین سے اپنا معاملہ چھپایا ہوا