اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 131 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 131

اصحاب بدر جلد 5 بد ر اور بیعت عقبہ میں شامل 131 مغیرہ بن حکیم بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ سے پوچھا کہ کیا آپ غزوہ بدر میں شریک تھے ؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں اور میں بیعت عقبہ میں بھی شامل تھا۔غزوہ حمراء الاسد میں شرکت 296 دوزخمی بھائی جو ایک دوسرے کو اپنی پیٹھ پر اٹھا کر اس میں شامل ہوئے سة حضرت عبد اللہ کے غزوہ حمراء الاسد ، جو مدینہ سے آٹھ میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے۔297 اس میں شامل ہونے کا ذکر بھی سیرت النبی صلی الم کی کتاب سبل الھدی میں یوں ملتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن سہل اور حضرت رافع بن سہل دونوں بھائی جو قبیلہ بنو عبد الاشہل میں سے تھے جب وہ دونوں غزوۂ احد سے واپس آئے تو وہ شدید زخمی تھے۔جنگ میں زخمی ہو گئے اور حضرت عبد اللہ زیادہ زخمی تھے۔جب ان دونوں بھائیوں نے رسول اللہ صلی الم کے حمراء الاسد کی طرف جانے اور اس میں شمولیت کی بابت آپ کے حکم کے بارے میں سنا تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا۔بخدا اگر ہم رسول اللہ صلی علی کیم کے ہمراہ غزوہ میں شرکت نہ کر سکے تو یہ ایک بہت بڑی محرومی ہو گی۔زخمی حالت میں تھے لیکن اس کے باوجود بھی ایک جذبہ تھا۔ایمان میں پختگی تھی۔پھر کہنے لگے بخدا ہمارے پاس کوئی سواری بھی نہیں ہے جس پر ہم سوار ہوں اور نہ ہی ہم جانتے ہیں کہ ہم کس طرح یہ کام کریں۔حضرت عبد اللہ نے کہا کہ آؤ میرے ساتھ ہم پیدل چلتے ہیں۔حضرت رافع نے کہا کہ اللہ کی قسم ! مجھے تو زخموں کی وجہ سے چلنے کی سکت بھی نہیں ہے۔آپ کے بھائی نے کہا کہ آؤ ہم آہستہ آہستہ چلتے ہیں اور رسول اللہ صلی علیم کی طرف جاتے ہیں۔چنانچہ وہ دونوں گرتے پڑتے چلنے لگے۔حضرت رافع نے کبھی کمزوری محسوس کی تو حضرت عبد اللہ نے حضرت رافع کو اپنی پیٹھ پر اٹھا لیا۔کبھی وہ پیدل چلنے لگے۔ایسی حالت تھی کہ دونوں ہی زخمی تھے لیکن جو بہتر تھے وہ زیادہ زخمی کو اپنی پیٹھ پر اٹھا لیتے تھے لیکن آنحضرت صلی علی کم کی طرف چلتے رہے۔کمزوری کی وجہ سے بعض دفعہ ایسی حالت ہوتی تھی کہ وہ حرکت بھی نہیں کر سکتے تھے۔یہاں تک کہ عشاء کے وقت وہ دونوں رسول اللہ صلی الم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔صحابہ کرام اس وقت آگ جلا رہے تھے۔ایک ڈیرہ ڈال لیا تھا۔رات کا وقت تھا تو آپ دونوں کو رسول اللہ صلی ایم کی خدمت میں پیش کیا گیا۔اس رات آنحضرت صلی ال کلم کے پہرے پر حضرت عباد بن بشر متعین تھے۔جب یہ پہنچے وہاں تو آنحضرت صلی علیہ ہم نے ان سے، دونوں سے پوچھا کہ کس چیز نے تمہیں روکے رکھا تو ان دونوں نے اس کا سبب بتایا کہ کیا وجہ ہو گئی۔اس پر آپ نے ان دونوں کو دعائے خیر دیتے ہوئے فرمایا اگر تم دونوں کو لمبی عمر نصیب ہوئی تو تم دیکھو گے کہ تم لوگوں کو گھوڑے اور خچر اور اونٹ بطور سواریوں کے نصیب ہوں گے۔ابھی تو تم گرتے پڑتے پیدل آئے ہو لیکن لمبی زندگی پاؤ گے تو یہ دیکھو گے کہ یہ سب سواریاں تمہیں میسر آجائیں گی لیکن ساتھ یہ بھی فرمایا کہ لیکن وہ تمہارے لیے