اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 128
اصحاب بدر جلد 5 128 راستے میں تم لوگ پڑھ سکتے تھے۔حضرت ابو دردا بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم آنحضرت صلی علیم کے ساتھ رمضان کے مہینے میں شدید گرمی میں نکلے اور گرمی اتنی شدید تھی کہ ہم میں سے ہر کوئی سروں کو گرمی سے بچانے کے لیے ہاتھوں سے ڈھانپتا تھا اور ہم میں کوئی روزہ دار نہیں تھا سوائے رسول اللہ لی ایم کے اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ کے 288 مسجد نبوی کی تعمیر اور عبد اللہ بن رواحہ کے اشعار حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے تحریر فرمایا ہے کہ : مدینہ کے قیام کا سب سے پہلا کام مسجد نبوی کی تعمیر کا تھا۔جس جگہ آپ کی اونٹنی آکر بیٹھی تھی وہ مدینہ کے دو مسلمان بچوں سہل اور سہیل کی ملکیت تھی جو حضرت اسعد بن زرارہ کی نگرانی میں رہتے تھے۔یہ ایک افتادہ جگہ تھی جس کے ایک حصہ میں کہیں کہیں کھجوروں کے درخت تھے اور دوسرے حصے میں کچھ کھنڈرات وغیرہ تھے۔آنحضرت صلی اللی کرم نے اسے مسجد اور اپنے حجرات کی تعمیر کے لیے پسند فرمایا اور دس دینار یعنی قریب توے روپے میں یہ زمین خرید لی گئی اور جگہ کو ہموار کر کے اور درختوں کو کاٹ کر مسجد نبوی کی تعمیر شروع ہو گئی۔آنحضرت صلی علیم نے خود دعامانگتے ہوئے سنگ بنیاد رکھا اور جیسا کہ قباء کی مسجد میں ہوا تھا صحابہ نے معماروں اور مزدوروں کا کام کیا جس میں کبھی کبھی اتحضرت علی ام خود بھی شرکت فرماتے تھے۔بعض اوقات اینٹیں اٹھاتے ہوئے صحابہ حضرت عبد اللہ بن رواحہ انصاری کا یہ شعر پڑھتے تھے: الله سة هَذَا الْحِمَالُ لَا حِمَالَ خَيْبَرَ هذَا ابَر رَبَّنَا وَأَظْهَرْ یعنی یہ بوجھ خیبر کے تجارتی مال کا بوجھ نہیں ہے جو جانوروں پر لا کر آیا کرتا ہے بلکہ اے ہمارے بوجھ تقویٰ اور بوجھ اور کبھی کبھی کرتے ہوئے عبد اللہ بن رواحہ کا یہ شعر پڑھتے تھے: مولی ای جان جو ہم تیری رضا کے لیے اٹھاتے ہیں کام اللَّهُمَّ اِنَّ الْأَجْرَ أَجْرُ الْآخِرَةُ فَارْحَمِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهُ یعنی اے ہمارے اللہ ! اصل اجر تو صرف آخرت کا اجر ہے۔پس تو اپنے فضل سے انصار و مہاجرین پر اپنی رحمت نازل فرما۔جب صحابہ یہ اشعار پڑھتے تھے تو بعض اوقات آنحضرت صلی للی کم بھی ان کی آواز کے ساتھ آواز ملا دیتے تھے اور اس طرح ایک لمبے عرصے کی محنت کے بعد یہ مسجد مکمل ہوئی۔"289