اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 122 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 122

اصحاب بدر جلد 5 122 میں نے دیکھا کہ ایک فرشتہ لوہے کا گر ز اٹھائے کھڑا یہ کہ رہا تھا کہ کیا تم واقعی ایسے ہو ؟ تو میں نے کہا ہاں۔جس پر اس نے مجھے وہ گر زمارا۔ایک اور روایت اس بارے میں اس طرح ہے اور یہ زیادہ صحیح لگتی ہے۔کہتے ہیں کہ فرشتے نے لوہے کا ایک گرز اٹھایا ہوا تھا اور وہ مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ کیا تم ایسے ہو جس طرح تمہاری ماں کہہ رہی ہے۔کہ تم پہاڑ ہو اور میرے سہارے ہو ؟ یہ تو شرک والی بات بنتی ہے۔حضرت عبد اللہ بن رواحہ کہتے ہیں کہ اگر میں کہتا کہ ہاں میں ایسا ہوں تو وہ ضرور مجھے گر زمار دیتا۔بلند مرتبه شاعر 276 آپ شاعر بھی تھے اور ان شاعروں میں سے تھے جو نبی کریم صلی ا کرم کی طرف سے مخالفین کی بیہودہ گوئیوں کا جواب دیا کرتے تھے۔ان میں سے چند شعر یہ ہیں: إِنِّي تَفَرَّسْتُ فِيْكَ الْخَيْرَ أَعْرِفُه وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنْ مَا خَانَنِي الْبَصَرُ أَنْتَ النَّبِيُّ وَمَنْ يُحْرَمُ شَفَاعَتَهُ يَوْمَ الْحِسَابِ فَقَدْ أَزْرَى بِهِ الْقَدَرُ فَثَبَّتَ اللهُ مَا آتَاكَ مِنْ حَسَنِ تثْبِيْتَ مُوسَى وَنَصْرًا كَالَّذِي نُصِرُوا کہ میں نے آپ کی ذات مقدس میں یعنی آنحضرت صلی یم کی ذات میں بھلائی پہچان لی تھی اور اللہ جانتا ہے کہ میری نظر نے دھوکا نہیں کھایا۔آپ نبی ہیں۔قیامت کے دن جو شخص آپ کی شفاعت سے محروم کر دیا گیا بے شک قضاء و قد ر نے اس کو بے وقعت کر دیا۔پس اللہ ان خوبیوں پر ثبات بخشے جو اس نے آپ کو دی ہیں جس طرح موسیٰ کو ثابت قدم رکھا اور آپ کی مدد کرے جیسا کہ ان نبیوں کی مدد کی۔نبی کریم صلی ا ہم نے ان اشعار کو سن کر فرمایا کہ اے ابن رواحہ ! اللہ تم کو ثابت قدم رکھے۔ہشام بن عروہ نے کہا ہے کہ اللہ نے ان کو اس دعا کی برکت سے خوب ثابت قدم رکھا حتی کہ آپ شہید ہوئے اور ان کے واسطے جنت کے دروازے کھول دیے گئے۔اس میں شہید ہو کر داخل ہوئے۔ابن سعد کی روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ والشُّعَرَاء يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوَنَ (الشراء:225) اور رہے شاعر تو محض بھٹکے ہوئے ہی ان کی پیروی کرتے ہیں تو حضرت عبد اللہ بن رواحہ کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں انہی میں سے ہوں۔جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ رالا الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصّلِحَتِ (الشعراء : 228) سوائے ان کے جو ان میں سے ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے۔معجم الشعراء کے مصنف لکھتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن رواحہ زمانہ جاہلیت میں بھی بہت قدر و منزلت رکھتے تھے اور زمانہ اسلام میں بھی ان کو بہت بلند مقام اور مرتبہ حاصل تھا۔حضور صلی الیہ کم کی شان میں ایک شعر حضرت عبد اللہ نے ایسا کہا ہے کہ اسے آپ کا بہترین شعر کہا جاسکتا ہے۔وہ شعر آپ کی دلی کیفیت کو خوب بیان کرتا ہے جس