اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 120
اصحاب بدر جلد 5 120 نہ چھوڑا جاوے اور اب چونکہ فتح ہو چکی ہے اس لئے جانے میں کوئی حرج نہیں ہے اور سوائے عبد اللہ بن جبیر اور ان کے پانچ سات ساتھیوں کے درہ کی حفاظت کے لئے کوئی نہ رہا۔خالد بن ولید کی تیز آنکھ نے دور سے درہ کی طرف دیکھا تو میدان صاف پایا جس پر اس نے اپنے سواروں کو جلدی جلدی جمع کر کے فور آدرہ کا رخ کیا اور اس کے پیچھے پیچھے عکرمہ بن ابو جہل بھی رہے سہے دستہ کو ساتھ لے کر تیزی کے ساتھ وہاں پہنچا اور یہ دونوں دستے عبد اللہ بن جبیر اور ان کے چند ساتھیوں کو ایک آن کی آن میں شہید کر کے اسلامی لشکر کے عقب میں اچانک حملہ آور ہو گئے۔"271 نام و نسب و کنیت 198 حضرت عبد اللہ بن رواحہ حضرت عبد اللہ بن رواحہ۔حضرت عبد اللہ کے والد کا نام رواحہ بن ثعلبہ تھا اور ان کی والدہ کا نام کبشہ بنت واقد بن عمر و تھا جو انصار کے قبیلہ خزرج کے خاندان بنو حارث بن خزرج سے تھیں۔حضرت عبد اللہ بن رواحہ بیعت عقبہ میں شریک تھے اور بنو حارث بن خزرج کے سردار تھے۔ان کی کنیت ابو محمد تھی بعض نے ابو رواحہ اور ابو عمرو بھی بیان کی ہے۔272 نبی صلی الل ولم کے کاتب انصار کے ایک شخص سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی الم نے حضرت عبد اللہ بن رواحہ اور حضرت مقداد میں مؤاخات قائم فرمائی تھی۔ابن سعد کے مطابق آپ نبی صلی علیکم کے کا تب بھی تھے۔273 تمام غزوات میں شامل حضرت عبد اللہ بن رواحہ غزوہ بدر، غزوہ احد، غزوہ خندق، غزوہ حدیبیہ ، غزوہ خیبر اور عمرۃ القضاء سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی علی ایم کے ہمراہ شریک رہے۔آپ غزوہ موتہ میں شہید ہوئے۔غزوہ مونہ کے سرداروں میں سے ایک سردار آپ بھی تھے۔بیٹھ جانے کی آواز سن کر وہیں بیٹھ گئے ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن رواحہ نبی صلی علیہ کم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپ صلی علیکم اس وقت خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔خطبے کے دوران آپ نے فرمایا بیٹھ جاؤ۔یہ سنتے ہی آپ مسجد سے