اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 119 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 119

اصحاب بدر جلد 5 119 جنگ احد میں دڑے پر ڈٹے رہنے والے جانباز حضرت عبد اللہ بن حمیر ان چند اصحاب میں سے تھے جو غزوہ احد میں حضرت عبد اللہ بن جبیر کے ساتھ دڑے پر ڈٹے رہے۔جب باقی صحابہ فتح کا نظارہ دیکھنے کے بعد مسلمانوں کی باقی جماعت سے ملنے کے لئے نیچے جانے لگے تو حضرت عبد اللہ بن محمیر انہیں نصیحت کرنے کے لئے کھڑے ہوئے۔آپ نے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور پھر اللہ اور رسول اللہ صلی علیہ سلم کی اطاعت کرنے کی نصیحت کی لیکن انہوں نے آپ کی بات نہ مانی اور چلے گئے یہاں تک کہ حضرت عبد اللہ بن جبیر کے ساتھ درے پر دس سے زیادہ صحابہ نہ بچے۔اتنے میں خالد بن ولید اور عکرمہ بن ابو جہل نے درہ خالی دیکھ کر جو اصحاب وہاں باقی رہ گئے تھے ان پر حملہ کر دیا۔اس قلیل جماعت نے ان پر تیر برسائے یہاں تک کہ وہ ان تک پہنچ گئے اور آن کی آن میں ان سب کو شہید کر دیا۔جنگ احد اور دڑے پر متعین ایک دستہ 270 احد کے اس واقعہ کی مزید تفصیل حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت خاتم النبیین میں لکھی ہے۔کہ " آنحضرت صلی لی نام خدا کی مدد پر بھروسہ کرتے ہوئے آگے بڑھے اور احد کے دامن میں ڈیرہ ڈال دیا۔ایسے طریق پر کہ احد کی پہاڑی مسلمانوں کے پیچھے کی طرف آگئی اور مدینہ گویا سامنے رہا اور اس طرح آپ نے لشکر کا عقب محفوظ کر لیا۔عقب کی پہاڑی میں ایک درہ تھا جہاں سے حملہ ہو سکتا تھا۔اُس کی حفاظت کا آپ نے یہ انتظام فرمایا کہ عبد اللہ بن جبیر کی سرداری میں پچاس تیر اند از صحابی وہاں متعین فرما دیئے اور ان کو تاکید فرمائی کہ خواہ کچھ ہو جاوے وہ اس جگہ کو نہ چھوڑیں اور دشمن پر تیر برساتے جائیں۔آپ کو اس درہ کی حفاظت کا اس قدر خیال تھا کہ آپ نے عبد اللہ بن جبیر سے یہ تکرار فرمایا " یعنی بار بار فرمایا کہ دیکھو یہ درہ کسی صورت میں خالی نہ رہے۔حتی کہ اگر تم دیکھو کہ ہمیں فتح ہو گئی ہے اور دشمن پسپا ہو کر بھاگ نکلا ہے، تو پھر بھی تم اس جگہ کو نہ چھوڑنا اور اگر تم دیکھو کہ مسلمانوں کو شکست ہو گئی ہے اور دشمن ہم پر غالب آگیا ہے تو پھر بھی تم اس جگہ سے نہ ہٹنا حتی کہ ایک روایت میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ "اگر تم دیکھو کہ پرندے ہمارا گوشت نوچ رہے ہیں تو پھر بھی تم یہاں سے نہ ہٹنا حتی کہ تمہیں یہاں سے ہٹ آنے کا حکم جاوے۔" یعنی آپ کی طرف سے حکم جائے۔" اس طرح اپنے عقب کو پوری طرح مضبوط کر کے آپ نے لشکر اسلامی کی صف بندی کی اور مختلف دستوں کے جدا جدا امیر مقرر فرمائے۔۔۔جب عبد اللہ بن جبیر کے ساتھیوں نے دیکھا کہ اب تو فتح ہو چکی ہے تو انہوں نے اپنے امیر عبد اللہ سے کہا کہ اب تو فتح ہو چکی ہے اور مسلمان غنیمت کا مال جمع کر رہے ہیں آپ ہم کو اجازت دیں کہ ہم بھی لشکر کے ساتھ جاکر شامل ہو جائیں۔عبد اللہ نے انہیں روکا اور آنحضرت صلی اللی سیم کی تاکیدی ہدایت یاد دلائی مگر وہ فتح کی خوشی میں غافل ہو رہے تھے ، اس لئے وہ باز نہ آئے۔اور یہ کہتے ہوئے نیچے اتر گئے کہ رسول اللہ صلی علی کم کا صرف یہ مطلب تھا کہ جب تک پورا اطمینان نہ ہولے درّہ خالی