اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 118
اصحاب بدر جلد 5 118 اسے اجازت دے دی۔ٹھیک ہے، بہانہ بنارہے ہو ، چھٹی دے دی، نہ جاؤ۔حضرت عبد اللہ بن جد کو یہ پتہ لگا تو اپنے والد کے پاس آئے، اور ان سے کہا کہ آپ نے رسول اللہ صلی الی یکم کی بات کا کیوں انکار کیا ہے ؟ اللہ کی قسم آپ تو بنو سلمہ میں سب سے زیادہ مالدار ہیں اور آج موقع ہے کہ اس میں حصہ لیں۔نہ آپ خود غزوہ کے لئے نکلتے ہیں نہ ہی کسی کو سواری مہیا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اے میرے بیٹے ! اب یہاں بیٹے کے سامنے ایک اور بہانہ ہے اور وہی حقیقت ہے کہ میرے بیٹے میں کیوں اس گرمی اور تنگی کے موسم میں بنو اصفر کی طرف نکلوں۔اللہ کی قسم میں تو خربی (جہاں بنو سلمہ کے گھر تھے) میں موجود اپنے گھر میں بھی ان کے خوف سے اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا۔رومیوں کا بڑا خوف تھا، ڈر تھا۔یہ بزدل آدمی تھے۔تو کیا میں ان کے خلاف جاؤں اور ان کے خلاف جنگ میں شامل ہوں۔اے بیٹے اللہ کی قسم ! میں تو گردش زمانہ سے خوب آگاہ ہوں۔مجھے پتہ ہے حالات کیا ہوتے ہیں، آج کچھ ہیں کل کچھ ہیں۔ان کی یہ باتیں سن کر حضرت عبد اللہ اپنے والد سے سختی سے پیش آئے اور کہا کہ اللہ کی قسم آپ میں تو نفاق پایا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ ضرور آپ کے متعلق رسول اللہ صلی علی کم پر قرآن میں نازل کرے گا جسے سب پڑھ لیں گے، اللہ تعالیٰ ظاہر کر دے گا کہ آپ منافقین میں سے ہیں۔حضرت عبد اللہ کے والد نے اس پر اپنا جو تا اتار کر ان کے منہ پر مارا۔عبد اللہ وہاں سے چلے گئے اور اپنے والد سے بات نہیں کی۔266 جد بن قیس جو حضرت عبد اللہ کے والد تھے، ایک جگہ اُسد الغابہ میں لکھا ہے کہ ان کے بارے میں نفاق کا گمان کیا گیا ہے۔یہ حدیبیہ میں شریک تھے مگر جب لوگوں نے نبی کریم صلی ایم کی بیعت کی تو اس وقت یہ بیعت میں بھی شامل نہیں ہوئے۔اور کہا جاتا ہے کہ بعد میں انہوں نے توبہ کر لی تھی اور ان کی وفات حضرت عثمان کے زمانہ خلافت میں ہوئی۔267 197 حضرت عبد الله بن محمد اپنے ایک بھائی کے ساتھ جنگ بدر میں شریک حضرت عبد اللہ بن حمیر الْاَشْجَعِی۔ان کا تعلق بنود همان سے ہے جو کہ انصار کے حلیف تھے آپ نے غزوہ بدر میں اپنے بھائی حضرت خارجہ کے ہمراہ شرکت کی اور آپ غزوہ احد میں بھی شامل ہوئے۔268 ان کی زوجہ کا نام حضرت ام ثابت بنت حارثہ ہے جو آنحضور صلی علی کم پر ایمان لائیں۔269