اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 110 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 110

اصحاب بدر جلد 5 110 صحابہ کا بھی اللہ تعالیٰ سے پیار کا یہ عجیب انداز ہے حضرت مطلب بن عبد اللہ بن حنطب کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ال ولم جس روز اُحد کی جانب روانہ ہوئے تو آنحضرت صلی الی ایم نے راستہ میں مدینہ کے قریب ایک جگہ شیخین کے پاس رات قیام کیا جہاں حضرت ام سلمہ ایک بھنی ہوئی دستی لائیں جس میں سے آنحضور نے نوش فرمایا۔اسی طرح نبیذ لائیں اور آپ صلی اللہ ہم نے نبیذ بھی پی۔میرا خیال ہے کہ یہ ایک طرح ہریرہ ٹائپ کی کوئی چیز تھی۔پھر شخص نے وہ نبیذ والا پیالہ لے لیا اور اس میں سے کچھ پیا۔پھر وہ پیالہ حضرت عبد اللہ بن جحش نے لے لیا اور اس کو ختم کر دیا۔ایک آدمی نے حضرت عبد اللہ بن جحش سے کہا کہ کچھ مجھے بھی دے دو۔تمہیں معلوم ہے کہ کل صبح تم کہاں جاؤ گے ؟ تو حضرت عبد اللہ بن جحش نے کہا کہ ہاں مجھے معلوم ہے۔مجھے اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملنا کہ میں سیراب ہوں۔( یعنی اچھی طرح کھایا پیا ہو ) اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں اس سے پیاسا ہونے کی حالت میں ملوں۔250 صحابہ کا بھی اللہ تعالیٰ سے پیار کا یہ عجیب انداز ہے اور اس کے لئے ان کے تیاری کے بھی عجیب رنگ ہیں۔حضرت عبد اللہ بن جحش اور حضرت حمزہ بن عبد المطلب کو ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا تھا۔حضرت حمزہ حضرت عبد اللہ بن جحش کے ماموں تھے اور شہادت کے وقت آپ کی عمر چالیس سال سے کچھ زائد تھی۔رسول کریم صلی علی کرم آپ کے ترکہ کے ولی بنے اور آپ صلی الیکم نے ان کے بیٹے کو خیبر میں مال خرید کر دیا۔251 حضرت عبد اللہ بن جحش کو صائب الرائے ہونے کی فضیلت بھی حاصل تھی۔رسول کریم علی ای نیم نے بدر کے متعلق جن صحابہ سے مشورہ مانگا ان میں آپ بھی شامل تھے۔252 حضرت عبد اللہ بن جحش کی ہمشیرہ کا ایک واقعہ حضرت مصلح موعود غزوہ اُحد سے آنحضرت صلی علی یم کی واپسی پر حضرت عبد اللہ بن جحش کی ہمشیرہ کا ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں جو تاریخ میں اس طرح آیا ہے یا آپ نے اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا کہ اس جنگ میں یعنی اُحد کی جنگ میں ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی علی کرم نے کس طرح بلند حوصلگی اور اپنے اعلیٰ اخلاق کا نمونہ پیش کیا اور لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور دلجوئی کی۔اس جنگ کے حالات سے پتا چلتا ہے کہ آپ اخلاق کے کتنے بلند ترین مقام پے کھڑے تھے اور اس جنگ میں صحابہ کی عدیم المثال قربانیوں کا بھی پتہ چلتا ہے۔لکھتے ہیں کہ میں اس وقت کی بات کر رہا ہوں جب آپ جنگ ختم ہونے پر مدینہ واپس تشریف لا رہے تھے۔مدینہ کی عورتیں جو آپ کی شہادت کی خبر سن کر بیقرار تھیں۔اب وہ آپ کی آمد کی خبر سن کر آپ کے استقبال کے لئے مدینہ سے باہر کچھ فاصلہ پر پہنچ گئی تھیں۔ان میں آپ کی ایک سالی حمنہ بنت جحش بھی تھیں۔ان کے تین نہایت قریبی رشتہ دار جنگ میں شہید ہو گئے تھے۔رسول کریم صلی علیم نے جب انہیں دیکھا تو فرمایا کہ اپنے مردہ کا افسوس کرو۔یہ عربی زبان کا ایک