اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 101
اصحاب بدر جلد 5 101 جنگ احد میں مسلمانوں پر ایک سخت گھڑی حضرت مصلح موعودؓ مزید فرماتے ہیں ایک آیت کی تشریح میں کہ : " فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ اَمْرِةٍ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ یعنی جو لوگ اس رسول کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں انہیں اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ کہیں ان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی آفت نہ پہنچ جائے یا وہ کسی درد ناک عذاب میں مبتلا نہ ہو جائیں چنانچہ دیکھ لو" آپ فرماتے ہیں کہ دیکھ لو کہ " جنگ احد میں اس حکم کی خلاف ورزی کی وجہ سے اسلامی لشکر کو کتنا نقصان پہنچا۔رسول کریم صلی للی کم نے ایک پہاڑی درہ کی حفاظت کے لئے پچاس سپاہی مقرر فرمائے تھے اور یہ درہ اتنا اہم تھا کہ آپ نے ان کے افسر عبد اللہ بن جبیر انصاری کو بلا کر فرمایا کہ خواہ ہم مارے جائیں یا جیت جائیں تم نے اس دڑہ کو نہیں چھوڑنا۔مگر جب کفار کو شکست ہوئی اور مسلمانوں نے اُن کا تعاقب شروع کر دیا تو اس دژہ پر جو سپاہی مقرر تھے انہوں نے اپنے افسر سے کہا کہ اب تو فتح ہو چکی ہے۔اب ہمارا یہاں ٹھہر نابے کار ہے۔ہمیں اجازت دیں کہ ہم بھی جہاد میں شامل ہونے کا ثواب لے لیں۔اُن کے افسر نے انہیں سمجھایا کہ دیکھو رسول کریم صلی الیم کے حکم کی خلاف ورزی نہ کرو۔رسول کریم علی علیم نے فرمایا تھا کہ خواہ فتح ہو یا شکست تم نے اس دژہ کو نہیں چھوڑنا۔اس لئے میں تمہیں جانے کی اجازت نہیں دے سکتا۔انہوں نے کہا کہ رسول کریم " ان کے باقی ساتھیوں نے یہ کہا کہ "رسول کریم صلی للی کم کا یہ مطلب تو نہیں تھا کہ خواہ فتح ہو جائے پھر بھی تم نے نہیں ہلنا۔آپ کا مقصد تو صرف تاکید کرنا تھا۔اب جبکہ فتح ہو چکی ہے ہمارا یہاں کیا کام ہے۔چنانچہ انہوں نے خدا کے رسول کے حکم پر " حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ "انہوں نے خدا کے رسول کے حکم پر اپنی رائے کو فوقیت دیتے ہوئے اس دڑہ کو چھوڑ دیا۔صرف اُن کا افسر اور چند سپاہی " یعنی عبد اللہ بن جبیر اور چند سپاہی " باقی رہ گئے۔جب کفار کا لشکر مکہ کی طرف بھاگتا چلا جار ہا تھا تو اچانک خالد بن ولید نے پیچھے کی طرف مڑ کر دیکھا تو درہ کو خالی پایا۔انہوں نے عمرو بن العاص کو آواز دی یہ دونوں ابھی تک اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے اور کہا دیکھو کیسا اچھا موقعہ ہے آؤ ہم مڑ کر مسلمانوں پر حملہ کر دیں۔چنانچہ دونوں جرنیلوں نے اپنے بھاگتے ہوئے دستوں کو سنبھالا اور اسلامی لشکر کا بازو کاٹتے ہوئے پہاڑ پر چڑھ گئے۔چند مسلمان جو وہاں موجود تھے اور جو دشمن کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے ان کو انہوں نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور اسلامی لشکر پر پشت پر سے حملہ کر دیا۔کفار کا یہ حملہ ایسا اچانک تھا کہ مسلمان جو فتح کی خوشی میں ادھر ادھر پھیل چکے تھے ان کے قدم جم نہ سکے۔صرف چند صحابہ دوڑ کر رسول کریم صلی ال نیم کے گرد جمع ہو گئے جن کی تعداد زیادہ سے زیادہ نہیں تھی مگر یہ چند لوگ کب تک دشمن کا مقابلہ کر سکتے تھے۔آخر کفار کے ایک ریلے کی وجہ سے مسلمان سپاہی بھی پیچھے کی طرف دھکیلے گئے۔