اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 96
اصحاب بدر جلد 5 96 کریں گے لیکن اعلامیہ کفر پر جس پر اللہ کی طرف سے دلیل ہو۔3 223 سوائے اس کے کہ اعلانیہ کفر پر مجبور کیا جائے۔واضح باتیں ہوں تو وہاں اور بات ہے۔اور وہ بھی اگر اختیارات ملتے ہیں تب۔۔اس پر آگ حرام ہے صنابھی روایت کرتے ہیں کہ میں حضرت عبادہ بن صامت کے پاس گیا جبکہ وہ موت کے قریب تھے۔میں رو پڑا تو انہوں نے کہا ٹھہرو کیوں رور ہے ہو ؟ خدا کی قسم! اگر مجھ سے گواہی طلب کی جائے تو میں تمہارے حق میں گواہی دوں گا اور اگر مجھے شفاعت کا حق دیا گیا تو میں تمہاری شفاعت کروں گا اور اگر مجھے طاقت ہوئی تو میں تجھے فائدہ پہنچاؤں گا۔پھر انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم! ہر حدیث جو میں نے رسول اللہ صلی الم سے سنی تھی جس میں تمہارے لیے بھلائی تھی وہ میں نے تمہارے سامنے بیان کر دی ہے سوائے ایک حدیث کے جو میں آج تمہیں بتاؤں گا جبکہ میں موت کی گرفت میں ہوں۔کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی علیم سے سنا آپ فرماتے تھے کہ جس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمدصلی اللی علم اللہ کے رسول ہیں اللہ تعالیٰ نے اس پر آگ حرام کر دی یعنی وہ مسلمان ہے۔224 اللہ تعالیٰ ان صحابہ کے درجات بلند فرمائے جنہوں نے ہمیں بعض ایسی باتیں پہنچائیں جو ہمارے لیے روحانی علم کے علاوہ عملی زندگی گزارنے کے لیے بھی ضروری تھیں۔225 192 حضرت عبد اللہ بن ربیع حضرت عبد اللہ بن الربیع انصاری کا ہے۔حضرت عبد اللہ بن الربیع کا تعلق خزرج قبیلے کی شاخ بنو آنجز سے تھا اور آپ کی والدہ کا نام فاطمہ بنت عمر و تھا۔آپ بیعت عقبہ ثانیہ میں شامل تھے اور آپ کو غزوہ بدر اور احد اور جنگ موئنہ میں شامل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔جنگ موتہ میں آپ نے شہادت کار تبہ پایا۔226