اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 92 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 92

92 اصحاب بدر جلد 5 اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ اگر صرف اتنا ہی ہے تو اس طرح تو پھر میری امت کے شہداء بہت تھوڑے رہ جائیں گے۔پھر آپ نے فرمایا کہ اللہ عز و جل کے راستے میں قتل ہو جانا شہادت ہے۔طاعون کی وجہ سے مر جانا بھی شہادت ہے۔ایک وباجو پھیلی ہے اس میں اگر مومن بھی کسی وجہ سے لپیٹ میں آجاتے ہیں اور وہ اچھے مومن ہیں تو وہ ایسی صورت میں شہادت ہے۔پھر پانی میں غرق ہو جانا بھی شہادت ہے اور پیٹ کی بیماری کی وجہ سے مرنا بھی شہادت ہے اور آپ نے فرمایا کہ نفاس کی حالت میں مرنے والی عورت کو اس کا بچہ اپنے ہاتھ سے بھینچ کر جنت میں لے جائے گا۔214 یعنی ایسی عورت جو بچے کی پیدائش کے وقت خون بہنے کی وجہ سے مر جاتی ہے یا نفاس کی حالت میں جو چالیس دن تک رہتی ہے اس عرصے میں بھی بچے کی پیدائش کی وجہ سے اور اسی حالت میں کمزوری کی وجہ سے فوت ہو جاتی ہے تو فرمایا کہ اسے بھی اس کا بچہ کھینچ کر جنت میں لے جائے گا۔یعنی بچہ اس کو جنت میں لے جانے کا باعث بن جائے گا۔جو روایت میں نے بیان کی ہے۔اس سے ملتی جلتی صحیح بخاری میں درج ایک روایت ملتی ہے۔حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ شہید پانچ ہیں : طاعون سے مرنے والاء پیٹ کی بیماری سے مرنے والا، ڈوب کر مرنے والا، دب کر مرنے والا اور اللہ کی راہ میں شہید ہونے والا۔215 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو طاعون ایک نشان کی صورت میں بتایا گیا تھا۔اس کے لیے اب یہ نشانی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جو ماننے والے لوگ ہیں ، صحیح ایمان لانے والے ہیں ان کے اوپر اس کا حملہ نہیں ہو گا۔اس لیے یہاں ایک بالکل اور صورت بن جاتی ہے لیکن عمومی طور پر اگر وبا پھیلی ہوئی ہے اور ایک مومن ہے اور کامل مومن ہے وہ اگر اس وجہ سے مر تا ہے تو آنحضرت صلی علیم نے فرمایا کہ وہ شہید ہے۔اسماعیل بن عبید انصاری بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبادہ نے حضرت ابو ہریرہ سے فرمایا کہ اے ابو ہریرہ! آپ اس وقت ہمارے ساتھ نہ تھے جب ہم لوگوں نے رسول اللہ صلی یکم کی بیعت کی تھی۔ہم نے آپ سے چستی اور سستی ہر حال میں بات سنے اور ماننے اور خوش حالی اور جنگی میں خرچ کرنے پر ، امر بالمعروف اور نھی عن المنکر پر، اللہ تبارک و تعالیٰ کے متعلق صحیح بات کہنے اور اس معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروانہ کرنے پر اور نبی کریم صلی علی یلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری پر ان کی مدد کرنے اور اپنی جانوں اور اپنے بیوی بچوں کی طرح آپ کی حفاظت کرنے کی شرط پر بیعت کی تھی۔یہ تمام، ساری باتیں ایسی تھیں جن پر ہم نے بیعت کی تھی جس کے عوض ہمارے لیے جنت کا وعدہ ہے۔پس یہ ہے رسول اللہ صلی علیکم کی بیعت جس پر ہم نے بیعت کی۔جو اسے توڑتا ہے وہ اپنا نقصان کرتا ہے۔جو ان شرائط کو جس پر ہم نے رسول اللہ صلی الیکم کی بیعت کی پورا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس بیعت کی وجہ سے نبی صلی علیہم کے ذریعے کیا ہو اوعدہ پورا کرے گا۔