اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 85 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 85

اصحاب بدر جلد 5 صاحب علم رض 85 نب کر یم علی یہ کلم کے زمانے میں انصار میں سے پانچ آدمیوں نے قرآن کو جمع کیا تھا جن کے نام پر ہیں۔حضرت معاذ بن جبل، حضرت عبادہ بن صامت، حضرت ابی بن کعب، حضرت ابو ایوب انصاری اور حضرت ابو در دا۔205 حضرت یزید بن سفیان نے فتح شام کے بعد حضرت عمررؓ کو لکھا کہ اہل شام کو ایسے معلم کی ضرورت ہے جو انہیں قرآن سکھائے اور دین کی سمجھ بوجھ دے تو حضرت عمر نے حضرت معاذ، حضرت عبادہ اور حضرت ابو درداء کو بھیجا۔حضرت عبادہ نے جا کر فلسطین میں قیام کیا۔جنادہ سے مروی ہے کہ میں جب حضرت عبادہ کے پاس حاضر ہوا تو میں نے انہیں اس حالت میں پایا کہ انہیں اللہ کے دین کی خوب سمجھ تھی۔یعنی بڑے صاحب علم تھے۔206 اللہ ایسی زمین کو خراب کر دے گا جس میں تمہارے جیسا کوئی اور نہ ہوا جب مسلمانوں نے ملک شام کو فتح کیا تو حضرت عمرؓ نے حضرت عبادہ اور ان کے ساتھ حضرت معاذ بن جبل اور حضرت ابو دردار کو شام بھجوایا تا کہ وہاں لوگوں کو قرآن کریم کی تعلیم دیں اور ان کو دین سکھائیں۔حضرت عُبادہ نے حمص میں قیام کیا اور حضرت ابو دردائر نے دمشق میں قیام کیا اور حضرت معاذ فلسطین کی طرف چلے گئے پھر کچھ دیر بعد حضرت عبادہ بھی فلسطین چلے گئے۔وہاں امیر معاویہ نے ایک معاملہ میں یعنی دین کے معاملے میں مخالفت کی جس کو حضرت عبادہ نا پسند کرتے تھے۔کسی دینی مسئلے میں اختلاف تھا۔امیر معاویہ نے ان سے اس پر سخت کلامی کی تو حضرت عبادہ نے کہا کہ میں ہر گز آپ کے ساتھ ایک سرزمین میں نہ رہوں گا۔پھر وہ مدینے چلے گئے تو حضرت عمرؓ نے پوچھا کہ تمہیں کیا چیز ادھر لے آئی ہے۔حضرت عبادہ نے حضرت عمر کو ساری بات بتائی کہ اس طرح اختلاف ہوا تھا اور پھر انہوں نے میرے ساتھ بڑی سخت کلامی کی ہے۔بہر حال اختلاف کی وجہ سے وہ واپس آگئے۔اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ تم اپنی جگہ واپس چلے جاؤ اور اللہ ایسی زمین کو خراب کر دے گا جس میں تم یا تمہارے جیسا کوئی اور نہ ہوا۔یعنی صاحب علم لوگ، دین کا علم رکھنے والے آنحضرت علی علیم کے پرانے صحابہ میں سے لوگ ضرور ہونے چاہیں۔نہیں تو یہ اس زمین کی بد قسمتی ہے۔اس لیے تمہار اواپس جاناضروری ہے اور امیر معاویہ کو بھی یہ فرمان لکھ کر بھیجا کہ تمہیں ان یعنی حضرت عبادہ پر کوئی اختیار نہیں ہے۔بعض مسائل ہیں اگر یہ بیان کرتے ہیں یا بعض باتیں کہتے ہیں تو ان کے لیے سنا کرو اور یہ جو کہتے ہیں وہ ٹھیک کہتے ہیں۔8 208 خدا کی خاطر قبیلے سے الگ ہو گئے۔207 تاریخ میں لکھا ہے کہ جب عبد اللہ بن ابی کے کہنے پر اس کے حلیف قبیلہ بنو قینقاع نے