اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 58
اصحاب بدر جلد 5 58 حضرت ابو بکر سے کہا کہ رسول اللہ صلی علی یم اپنے سر پر کپڑا اوڑھے ہوئے آرہے ہیں۔آپ ایسے وقت آئے کہ جس میں آپ ہمارے پاس نہیں آیا کرتے تھے۔حضرت ابو بکر نے کہا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ! خدا کی قسم آپ جو اس وقت تشریف لائے ہیں تو ضرور کوئی بڑا کام ہے۔کہتی تھیں اتنے میں رسول اللہ صلی علی یم پہنچ گئے اور جب آپ پہنچے تو اندر آنے کی اجازت مانگی۔حضرت ابو بکر نے اجازت دی۔آپ اندر آئے۔نبی صلی العلیم نے حضرت ابو بکر سے کہا جو تمہارے پاس ہیں انہیں باہر بھیج دو۔حضرت ابو بکر نے کہا یارسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان اگھر میں تو صرف آپ ہی کے گھر والے ہیں یعنی عائشہ اور ان کی والدہ ام رومان۔تو رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ مجھے ہجرت کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔حضرت ابو بکر نے کہا یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلئے۔تو رسول اللہ صلی الیم نے فرمایا کہ ہاں تم بھی میرے ساتھ چلو۔پھر حضرت ابو بکر نے کہا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ! ساتھ چلنا ہے تو پھر میری ان دو سواری کی اونٹنیوں میں سے ایک آپ لے لیجئے۔رسول اللہ صلی الم نے فرمایا کہ میں قیمتاًلوں گا۔حضرت عائشہ کہتی تھیں چنانچہ ہم نے جلدی سے دونوں کا سامان تیار کر دیا اور ہم نے ان کے لئے توشہ تیار کر کے چمڑے کے تھیلے میں ڈال دیا۔حضرت ابو بکر کی بیٹی حضرت اسماء نے اپنے کمر بند سے ایک ٹکڑہ کاٹ کر تھیلے کے منہ کو اس سے باندھا اس لئے ان کا نام ذات النطاق ہو گیا۔کہتی تھیں کہ پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی ال یکم اور حضرت ابو بکر ثور پہاڑ کے ایک غار میں جا پہنچے اور اس میں تین راتیں چھپے رہے۔حضرت عبد اللہ بن ابو بکر ان دونوں کے پاس جا کر رات ٹھہرتے اور اس وقت وہ چالاک اور ہوشیار جوان تھے یعنی کہ اچھی ہوش و حواس میں تھے اور اندھیرے میں ہی ان کے پاس سے چلے آتے تھے۔صبح صبح اند میرے منہ ہی واپس آ جاتے تھے اور مکہ میں قریش کے ساتھ ہی صبح کرتے تھے جیسے وہیں رات گزاری ہے۔جو تدبیر بھی ان کے متعلق یعنی کفار کے متعلق سنتے وہ اس کو اچھی طرح سمجھ لیتے اور جب اندھیرا ہو جاتا تو غار میں پہنچ کر ان کو بتادیتے۔مکہ میں جو سارا دن رہتے تھے تو کفار کے جو بھی منصوبے تھے وہ شام کو آپ کو بتایا کرتے تھے۔حضرت ابو بکر کا غلام عامر بن فهيره بکریوں کے ریوڑ میں سے ایک دودھیل بکری ان کے پاس چرا تارہتا اور جب عشاء کے وقت سے کچھ گھڑی گزر جاتی تو وہ بکری ان کے پاس لے آتا اور وہ دونوں تازہ دودھ پی کر رات گزارتے۔اور یہ دودھ ان دونوں کی دود ھیل بکری کا ہوتا۔عامر بن فهيدہ رات کے پچھلے پہر گلے میں چلا جاتا اور بکریوں کو آواز دینا شروع کر دیتا۔تین رات تک وہ ایسا ہی کرتا رہا۔اور رسول اللہ صلی املی کم اور حضرت ابو بکر نے بنو دیل کے قبیلے کے ایک شخص کو راستہ بتانے کے لئے اجرت پر رکھ لیا تھا اور وہ بنو عبد بن عدی سے تھا۔بہت ہی واقف کار راستہ بتانے کا ماہر تھا۔اس شخص نے عاص بن وائل کے خاندان کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لئے اپنا ہاتھ ڈبویا تھا اور وہ کفار قریش ہی کے مذہب پر تھا۔آنحضرت صلی علی کم اور حضرت ابو بکر دونوں نے اس پر اعتبار کیا۔گوہ کافر تھا اور قریش کا ہی زیادہ پر وردہ بھی تھا لیکن بہر حال آپ نے اس پہ اعتبار کیا اور اپنی سواری کی