اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 45
اصحاب بدر جلد 5 45 طرف پیغام بھیجا کہ آپ صلی للی و کم تشریف لائیں اور اس میں نماز پڑھیں۔جب بنو غنم بن عوف کے کچھ لوگوں نے اس مسجد کو دیکھا تو انہوں نے کہا کہ ہم بھی ایک مسجد بناتے ہیں جیسے بنو عمرو نے بنائی ہے تو ان کو ابو عامر و فاسق جو بڑا مخالف تھا۔یہ فتنہ پیدا کرنے والا تھا۔اس نے کہا کہ تم بھی ایک مسجد بناؤ اور حتی الوسع اس میں اسلحہ بھی جمع کرو۔اس کی نیت یہ تھی کہ اس کو فتنے کا مرکز بنایا جائے۔کہنے لگا کہ میں روم کے بادشاہ قیصر کے پاس جارہا ہوں اور وہاں سے ایک رومی لشکر لاؤں گا۔پھر محمد علی لی نام اور اس کے ساتھیوں کو یہاں سے نکال دوں گا۔جب مسجد مکمل ہو گئی تو ان کے لوگ آنحضرت صلی للی کم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ ہم نے یہ مسجد بیماروں اور معذوروں کی آسانی کے لیے بنائی ہے کہ وہ زیادہ دور نماز پڑھنے نہیں جاسکتے اور ساتھ ہی آپ سے یہ بھی درخواست کی کہ اس مسجد میں نماز پڑھانے کے لیے تشریف لائیں۔آنحضرت صلی اللہ ہم نے فرمایا کہ میں اس وقت سفر کی تیاری میں مصروف ہوں۔سفر پہ جارہے تھے ، ان شاء اللہ جب ہم واپس آئیں گے تو میں نماز پڑھاؤں گا۔یہ غزوہ تبوک کا سفر تھا۔غزوہ تبوک سے واپسی پر نبی کریم صلی علیم نے مدینے سے تھوڑے فاصلے پر ایک جگہ ذی آوان، اس کے اور مدینہ کے درمیان ایک گھنٹے کا فاصلہ ہے وہاں قیام فرمایا تو آپ کو مسجد ضرار کے بارے میں یہ وحی نازل ہوئی جس کا قرآن شریف میں سورہ تو بہ میں ذکر ہے کہ وَ الَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَكُفْرًا وَ تَفْرِيقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وَ ارْصَادًا لِمَنْ حَارَبَ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ مِنْ قَبْلُ وَلَيَحْلِفْنَ إِنْ أَرَدْنَا إِلَّا الْحُسْنَى وَاللهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَذِبُونَ (توبہ:107) اور وہ لوگ جنہوں نے تکلیف پہنچانے اور کفر پھیلانے اور مومنوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے اور ایسے شخص کو کمین گاہ مہیا کرنے کے لیے جو اللہ اور اس کے رسول سے پہلے ہی لڑائی کر رہا ہے ایک مسجد بنائی ہے ضرور وہ قسمیں کھائیں گے کہ ہم بھلائی کے سوا کچھ نہیں چاہتے تھے جبکہ اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ یقینا جھوٹے ہیں۔آپ صلی علی کرم نے اس کے بعد مالک بن دخشم اور معن بن عدی کو بلایا اور ان کو مسجد ضرار گرانے کا م دیا۔کچھ روایات میں یہ بھی ہے کہ حضرت عاصم بن عدی اور عمرو بن سکن اور وحشی، جس نے حضرت حمزہ کو شہید کیا تھا اور سوید بن عباس کو بھی آنحضرت صلی علی کریم نے اس مقصد کے لیے بھیجا۔شرح زرقانی میں یہ بھی لکھا ہے کہ ممکن ہے کہ آنحضرت صلی سلیم نے پہلے دو افراد کو بھجوایا ہو پھر مزید چار افراد ان کی اعانت کے لیے بھجوائے ہوں۔آپ صلی علیہ یکم نے انہیں مسجد ضرار کی طرف جانے کا ارشاد فرمایا کہ اسے گرا دیں اور آگ لگا دیں۔یہ کہتے ہیں کہ یہ سب لوگ تیزی سے قبیلہ بنو سالم پہنچے جو کہ حضرت مالک بن دحشم کا قبیلہ تھا۔حضرت مالک بن دخشم نے حضرت معن سے کہا کہ مجھے کچھ مہلت دو یہاں تک کہ میں گھر سے آگ لے آؤں۔چنانچہ وہ گھر سے کھجور کی سوکھی ٹہنی کو آگ لگا کر لے آئے۔پھر وہ مغرب اور عشاء کے درمیان مسجد ضرار کے پاس پہنچے اور وہاں جا کر اسے آگ لگا دی اور اس کو زمین بوس کر دیا۔یہ کچھ حصہ میں نے پہلے حضرت مالک بن دخشم کے ضمن میں بیان کیا تھا۔بہر حال اس وقت اس مسجد کے بنانے والے وہاں موجود تھے لیکن آگ لگنے کے بعد وہ ادھر اُدھر بھاگ گئے۔جب