اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 505 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 505

اصحاب بدر جلد 5 505 حضرت ابو بکر نے اپنا سارا سامان آنحضرت علی الم کے حضور پیش کر دیا۔آپ صلی علی کرم نے جب پوچھا کہ اپنے گھر کے لیے کیا چھوڑ کے آئے ہو تو انہوں نے عرض کیا کہ گھر والوں کے لیے اللہ اور اس کا رسول چھوڑ آیا ہوں۔حضرت عمرؓ نے اس وقت حضرت ابو بکر پر رشک کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کی قسم ! میں حضرت ابو بکر سے کسی شے میں کبھی سبقت نہیں لے جا سکتا۔1165 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس واقعہ کا تذکرہ بیان کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں که 11661 ایک دفعہ ہمارے نبی کریم صلی علیم نے روپیہ کی ضرورت بتلائی تو حضرت ابو بکر گھر کا کل اثاث البیت لے کر حاضر ہو گئے۔آپ نے پوچھا ابو بکر !گھر میں کیا چھوڑ آئے تو جواب میں کہا " اللہ اور اس کا رسول اللہ اور رسول کا نام چھوڑ آیا ہوں۔حضرت عمر نصف لے آئے۔آپ صلی علیہم نے پوچھا عمر !اگھر میں کیا چھوڑ آئے ؟ تو جواب دیا کہ نصف۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ اس پر "رسول اللہ صلی علیکم نے فرمایا کہ ابو بکر و عمر کے فعلوں میں جو فرق ہے وہی ان کے مراتب میں فرق ہے۔" حضرت ابو بکر نے غزوہ تبوک کے موقع پر اپنا جو کل مال آنحضرت صلی علیکم کی خدمت میں پیش کیا تھا اس کی مالیت اس موقع پر چار ہزار درہم تھی۔1167 حضرت عثمان نے بھی اونٹوں اور گھوڑوں اور نقد کی قربانی پیش کی تھی۔اس قربانی کی وجہ سے آنحضرت صلی علیم نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا تھا کہ اس عمل کے بعد اب عثمان کے کسی عمل پر کوئی مؤاخذہ نہیں۔ایک دوسری روایت کے مطابق آنحضرت صلی ال کلم نے فرمایا آج کے دن کے بعد عثمان جو بھی عمل کرے گاوہ اسے ضرر نہیں پہنچائے گا۔یہ بات آپ نے دو مر تبہ فرمائی۔ایک رات مزدوری کر کے خدا کی راہ میں پیش کرنا 1168 حضرت ابو عقیل “ ایک صحابی تھے ان کے پاس غزوہ میں دینے کے لیے کچھ نہیں تھا تو انہوں نے یہ ترکیب سوچی کہ ایک جگہ رات کو اجرت پہ کام کر کے ، مزدوری یہ کام کر کے کھیت کو پانی لگانے کا معاملہ ایک شخص سے طے کیا اور ساری رات رسی کھینچ کھینچ کر کنویں سے پانی نکالتے رہے اور کھیت کو سیر اب کرتے رہے۔اس کے بدلے میں ان کو دو صاع یعنی تقریباً چار پانچ کلو کھجوریں ملیں۔انہوں نے آدھی اس میں سے اپنے بیوی بچوں کے لیے دے دیں اور آدھی لے کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی کرنے کے لیے آنحضرت صلی علی کرم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔حضرت عبد الرحمن بن عوف نے اس موقع پر اپنا نصف مال آنحضرت صلی یم کی خدمت میں پیش کیا جس کی مالیت چار ہزار چار سو درہم تھی۔جب حضرت عاصم بن عدی نے سو وسق، (ایک وسق میں ساٹھ صاع ہوتے ہیں اور ایک صاع اڑھائی کلو کا، کچھ کم اڑھائی سیر کا ہوتا ہے ) کھجوریں پیش کیں تو منافقوں نے یہ الزام لگایا کہ یہ ریاکاری ہے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت بھی نازل فرمائی۔اس بارے