اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 504 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 504

اصحاب بدر جلد 5 504 اس جنگ کی تیاری کا سبب یہ امر بنا کہ شام کے نبطی قبیلہ کے لوگ جو تیل کی تجارت کے لیے مدینہ سفر کرتے تھے ان کے ذریعہ نبی کریم صلی اللہ ہم کو یہ خبر ملی کہ قیصر روم کا ایک لشکر قیصر کے ساتھ ملک شام میں اکٹھا ہوا ہے اور ایک دوسری روایت کے مطابق عرب کے عیسائیوں نے قیصر کی طرف لکھا کہ یہ شخص جو مدعی نبوت ہے یہ ہلاک ہو گیا ہے (نعوذباللہ تو مسلمانوں کو قحط نے آلیا ہے جس کے نتیجے میں یہ تو ان کے جانور ہلاک ہو گئے ہیں۔اس پر قیصر نے ایک عظیم سپہ سالار کی قیادت میں کئی قبائل، کے جنگجوؤں پر مشتمل چالیس ہزار سپاہیوں کا ایک لشکر جرار تیار کیا جو بلقاء (جو ملک شام کا ایک شہر ہے) کے مقام پر جمع ہوا۔خبر میں تھی چوتھی وہ اس خبر میں بہر حال کسی قسم کی صداقت نہیں تھی لیکن یہ خبر جو تھی وہ جنگ کی تیاری کا سبب بن گئی۔نبی کریم صلی علی ملک کو جب یہ خبر ملی اس وقت لوگوں میں طاقت نہیں تھی تاہم آپ صلی علیم نے لوگوں میں کوچ کا اعلان کروایا اور انہیں اس جگہ کے بارے میں آگاہ کر دیا جس طرف سفر کرنا تھا تا کہ وہ اس کے لیے تیاری کر سکیں۔یہ شرح علامہ زرقانی میں لکھا ہے۔صحابہ کا ایثار اور منافقوں کی سازشیں 1164 صحابہ کا ایثار اور منافقوں کی سازشیں بھی اس میں ظاہر ہوئیں۔آنحضرت صلی اللہ ہم نے اس غزوے کے لیے تیاری کا اعلان فرمایا ہی تھا کہ مدینے میں ایک گہما گہمی شروع ہو گئی۔جو صحابہ وسائل رکھتے تھے وہ اپنی استطاعت کی انتہائی حدوں تک قربانیاں پیش کر رہے تھے۔جو مجبور تھے ان کا جوش و جذبہ اس قدر عروج پر تھا کہ سینکڑوں میل کے سفر کے لیے پا پیادہ چلنے پر آمادہ تھے اور تیار تھے۔اس مہم میں وسائل پیش کرنے کے لیے کوئی گھر کی طرف بھاگ رہا تھا تو کوئی اپنے اثاثے اکٹھے کر رہا تھا اور اپنے آقا کے حضور زیادہ سے زیادہ دینے کے لیے کوشش کر رہا تھا۔بہر حال کوئی اپنے مکانوں کی تلاشی لے رہا تھا کہ کچھ ملے تو میں اس کے ذریعہ سے غزوے میں شامل ہوں اور پیدل چلنے کے لیے بھی لوگ تیار تھے بلکہ بعض لوگوں کے پاس تو جو تیاں نہیں تھیں۔ایسے لوگ جو تھے آنحضرت صلی الم کے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ ہمیں پیدل چلنے کے لیے جو تیاں ہی مل جائیں تو ہم پیدل چلنے کو بھی تیار ہیں۔اگر ہمارے ننگے پیر ہیں تو ہمیں بالکل نہیں کہ ہمارے پیر زخمی ہو جائیں گے اور ہم پہنچ نہیں سکیں گے۔اس وقت وہ حالت تھی کہ ان کو وہ بھی مہیا نہیں ہو سکتی تھیں۔بہر حال ہر ایک اپنی اپنی جگہ اپنی جان کے نذرانے پیش کرنے کے لیے تیار تھا۔حضرت عمر کو خیال تھا کہ آپ کے گھر میں کافی مال ہے۔چنانچہ انہوں نے سوچا کہ حضرت ابو بکر سے سبقت لے جانے کا آج موقع ہے تو آپ نے اپنا آدھا مال لا کر آنحضرت صلی للہ علم کی خدمت میں رکھ دیا۔آنحضرت صلی اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ کر آئے ہو۔حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ آدھا مال لایا ہوں اور آدھا چھوڑ آیا ہوں۔