اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 34
اصحاب بدر جلد 5 34 بجائے آپ کے چہرے پر پڑنے کے طلحہ کے ہاتھ پر پڑتا تھا۔اس طرح تیر پڑتے گئے یہاں تک کہ زخم معمولی زخم نہ رہے اور زخموں کی کثرت کی وجہ سے طلحہ کے ہاتھ کے پٹھے مارے گئے اور ان کا ہاتھ مفلوج ہو گیا۔تو جس کو تم حقارت کے ساتھ منڈا کہتے ہو اس کا ٹنڈا ہونا ایسی نعمت ہے کہ ہم میں سے ہر شخص اس برکت کے لیے ترس رہا ہے۔96 ربعی بن حِراش سے مروی ہے کہ میں حضرت علی کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ عمران بن طلحہ آئے۔انہوں نے حضرت علی کو سلام کیا۔حضرت علی نے ان کو کہا مرحبا۔عمران بن طلحہ مَرْحَبًا عمران بن طلحہ نے کہا اے امیر المومنین! آپ مجھے مرحبا کہتے ہیں حالانکہ آپ نے میرے والد کو قتل کیا اور میر امال لے لیا۔حضرت علی نے کہا کہ تمہارا مال تو بیت المال میں الگ پڑا ہوا ہے۔صبح کو اپنا مال لے جانا۔ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا میں نے اسے اپنے تصرف میں اس لیے لے لیا تھا کہ لوگ اسے اُچک نہ لیں۔لے نہ جائیں کہیں اور جہاں تک تمہارا یہ کہنا ہے کہ میں نے تمہارے والد کو قتل کر دیا تو میں امید کرتاہوں کہ میں اور تمہارے والد ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وَ نَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلَّ اِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ تَقْبِلِينَ (الجر 48) اور ہم ان کے دلوں سے جو بھی کینے ہیں نکال باہر کریں گے ، بھائی بھائی بنتے ہوئے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔97 محمد انصاری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جنگ جمل کے روز ایک شخص حضرت علی کے پاس آیا اور کہا طلحہ کے قاتل کو اندر آنے کی اجازت دیں۔راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کو کہتے سنا کہ اس قاتل کو دوزخ کی خبر سنادو۔98 حضرت طلحہ کی شہادت پر حضرت علی ملکا اظہار افسوس و تعزیت حضرت طلحہ جب شہید ہوئے اور حضرت علی نے ان کو مقتول دیکھا تو ان کے ، حضرت طلحہ کے چہرے پر سے مٹی پونچھنے لگے اور فرمایا اے ابو محمد ! یہ بات مجھ پر بہت شاق ہے کہ میں تجھ کو آسمان کے تاروں کے نیچے خاک آلودہ دیکھوں۔پھر حضرت علی نے یہ فرمایا کہ میں اللہ کے حضور اپنے عیوب اور دکھوں کی فریاد کرتا ہوں۔پھر حضرت طلحہ کے لیے دعائے رحمت کی اور فرمایا کہ کاش میں اس دن سے ہیں سال پہلے مر گیا ہو تا۔حضرت علی اور ان کے ساتھی بہت روئے۔حضرت علی نے ایک مرتبہ ایک شخص کو یہ شعر پڑھتے سنا: فَتًى كَانَ يُدَنِيهِ الْغِنَى مِنْ صَدِيقِهِ إِذَا مَا هُوَ اسْتَغْنى وَيُبْعِدُهُ الْفَقْرُ وہ ایک ایسا نوجوان تھا جو دولت مندی اور غنی ہونے کی حالت میں دوستوں سے مل جل کر رہتا تھا اور محتاجی کے وقت ان سے کنارہ کشی کر تا تھا۔حضرت علیؓ نے فرمایا اس شعر کے مصداق تو ابو محمد طلحہ بن عبید اللہ تھے۔اللہ ان پر رحم کرے۔99