اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 460
اصحاب بدر جلد 5 1060 460 قتل کیا ہو ؟ اس جیسے بڑے آدمی کو کبھی ان کی قوم نے قتل کیا ہو ؟1059 یہ بخاری کی روایت ہے۔اس کی شرح میں حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ بعض روایات میں ہے کہ عفراء کے دو بیٹوں معوذ اور معاذ نے ابو جہل کو موت کے قریب پہنچادیا تھا۔بعد میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے اس کا سر تن سے جدا کیا تھا۔امام ابنِ حجر نے اس احتمال کا اظہار کیا ہے کہ حضرت معاذ بن عمرو اور حضرت معاذ بن عفر الہ کے بعد حضرت معوذ بن عفر الا نے بھی اس پر وار کیا ہو گا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ابو جہل کے قتل کے واقعے کو بیان کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ انسان بڑی خوشیاں کرتا ہے اور اپنے لیے ایک چیز کو مفید خیال کرتا ہے لیکن وہی اس کے لیے تباہی اور بربادی کا باعث ہو جاتی ہے۔بدر کے موقعے پر کفارِ مکہ جب آئے تو انہوں نے سمجھا کہ بس ہم نے مسلمانوں کو مار لیا اور ابو جہل نے کہا ہم عید منائیں گے اور خوب شرا میں اڑائیں گے اور سمجھا کہ بس اب مسلمانوں کو مار کر ہی پیچھے ہٹیں گے لیکن اسی ابو جہل کو مدینے کے دولڑکوں نے قتل کر دیا۔کفارِ مکہ مدینہ والوں کو بڑا ذلیل خیال کرتے تھے اور اسے یعنی ابو جہل کو ایسی حسرت دیکھنی نصیب ہوئی کہ اس کی آخری خواہش بھی پوری نہ ہو سکی۔عرب میں رواج تھا کہ جو سردار ہوتا وہ اگر لڑائی میں مارا جاتا تو اس کی گردن لمبی کر کے کاٹتے تا کہ پہچانا جاوے کہ یہ کوئی سردار تھا۔عبد اللہ بن مسعودؓ نے اسے دیکھا جب یہ بے حس و حرکت اور زخمی پڑا ہوا تھا اور پوچھا کہ تمہاری کیا حالت ہے ؟ اس نے کہا مجھے اور تو کوئی افسوس نہیں، صرف یہ ہے کہ مجھے مدینہ کے دو ارائیں بچوں نے مار دیا یعنی ایسے بچوں نے جو سبزیاں اگانے والوں کی، کھیتی باڑی کرنے والوں کی اولاد ہیں اور مکہ والوں کی نظر میں یہ کام کم درجے کا سمجھا جاتا تھا اور خیال کیا جاتا تھا کہ مدینہ کے لوگوں کو جنگ و جدل اور جنگ و قتال کا کیا پتہ ؟ لیکن مارا بھی اور اس کے اس تکبر کو توڑا بھی تو کس نے ؟ انہی لوگوں نے نہ صرف ان لوگوں نے بلکہ ان کے بچوں نے یا لڑکوں نے جو اتنے تجربہ کار نہیں تھے۔عبد اللہ نے دریافت کیا کہ تمہاری کوئی خواہش ہے ؟ اس نے کہا میری یہ خواہش ہے کہ میری گردن ذرا لمبی کر کے کاٹ دو۔انہوں نے کہا میں تیری یہ خواہش بھی پوری نہیں ہونے دوں گا اور اس کی گردن کو ٹھوڑی کے پاس سے سختی سے کاٹ دیا اور وہ جو عید منانی چاہتا تھا وہی اس کے لیے ماتم ہو گیا اور وہ شراب جو اس نے پی تھی اسے ہضم ہونی بھی نصیب نہ ہوئی۔غزوہ بدر کے موقعے پر حضرت معوذ لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔آپ کو ابو مُسَافِع نے شہید کیا تھا۔1061 1062