اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 453
اصحاب بدر جلد 5 453 امید نہیں کہ وہ ایسی بات کہیں جو انہوں نے اس سے پہلے نہیں کہی۔حضرت عمر منبر پر بیٹھ گئے جب اذان دینے والا خاموش ہو گیا وہ کھڑے ہوئے اور اللہ کی وہ تعریف کی جس کا وہ اہل ہے پھر کہا کہ اما بعد میں تم سے ایک ایسی بات کہنے لگا ہوں کہ میرے لئے مقرر تھا کہ میں وہ کہوں میں نہیں جانتا کہ شاید یہ بات میری موت کے قریب کی ہو اس لئے جس نے اس بات کو سمجھا اور اچھی طرح یادر کھا تو جہاں بھی اس کی اونٹنی اس کو پہنچا دے وہ اس کو بیان کرے یعنی اس کو جہاں تک تم پہنچا سکتے ہو ان باتوں کو دوسروں تک صحیح رنگ میں ان کو پہنچانا اور جس کو یہ خدشہ ہو کہ اس نے اس کو نہیں سمجھا تو میں کسی کے لئے جائز نہیں رکھتا کہ میرے متعلق جھوٹ کہے۔غلط بات نہ پہنچانا۔پھر آپ نے فرمایا کہ اللہ نے محمد صلی علیکم کو سچائی کے ساتھ بھیجا اور آپ پر احکام شریعت نازل کئے۔پھر بعض احکام کا بھی ذکر کیا ایک لمبی تفصیل ہے حدیث ہے یہ اس کو میں چھوڑتا ہوں پھر آپ نے فرمایا کہ سنو پھر رسول اللہ صلی علیکم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ بڑھا چڑھا کر میری تعریف نہ کرو جیسا کہ عیسی بن مریم کی تعریف میں مبالغہ کیا گیا اور تم یہ کہو کہ وہ اللہ کا بندہ فرمایا آنحضرت صلی علی کریم نے فرمایا تھا یہ کہا کرو میرے متعلق کہ وہ اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہے۔پھر حضرت عمرنے کہا کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تم میں سے کوئی کہنے والا یہ کہتا ہے اس بات کو بیان کیا کہ حضرت ابو بکر کو خلافت تو یونہی مل گئی۔آپ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم۔اگر عمر مر گیا تم نے یہ کہا ہے کہ اس شخص نے ابو بکر کے متعلق بھی کہا ہے اور پھر میرے متعلق بھی کہا ہے کہ اللہ کی قسم اگر عمر مر گیا تو میں فلاں کی بیعت کروں گا آپ نے فرمایا اس لئے کوئی شخص دھو کہ میں رہ کر یہ نہ کہے پھر آپ نے بات کو پہلے حضرت عمر کی طرف لے گئے آئندہ آنے والی تو بعد کی بات ہے نہ حضرت ابو بکر کی طرف لے گئے اس بارے میں وضاحت کر دوں آپ نے فرمایا کہ کوئی شخص دھوکے میں رہ کر یہ نہ کہے کہ ابو بکر کی بیعت یونہی افرا تفری میں غلطی سے ہو گئی تھی اور وہ سر انجام پاگئی اور اس طرح آپ خلیفہ بن گئے۔سنو یہ درست ہے کہ وہ بیعت اسی طرح ہوئی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس افرا تفری کی بیعت کے شر سے بچائے رکھا وہ افرا تفری میں بھی تھی ٹھیک ہے ایسا موقع آیا تھا لیکن اس کے شر سے اللہ تعالی نے بچایا اور تم میں ابو بکر جیسا کوئی نہیں کہ جس کے پاس اونٹوں پر سوار ہو کر لوگ آئیں۔یعنی کہ ایسا عالم یہ عمل اور مخلص اور تقویٰ کے معیار پر پہنچا ہوا اور کوئی شخص نہیں تھا۔پھر آگے کچھ تفصیل۔اس کی بیان ہوئی باقی باتوں کی۔پھر آپ نے فرمایا کہ جس نے مسلمانوں کے مشورے کے بغیر کسی شخص کی بیعت کی تو اس کی بیعت نہ کی جائے یعنی کہ جو بیعت ہوئی تھی وہ بڑے مشورے سے ہوئی تھی اور یہ بھی یادر کھو کہ جس نے مسلمانوں کے مشورے کے بغیر بیعت کی کسی شخص کی تو اس کی بیعت نہ کی جائے اور نہ اس شخص کی جس نے اس کی بیعت کی۔اس لئے کہ کہیں وہ اپنے آپ کو مروانہ ڈالے اور اصل میں ہمارا واقعہ یوں ہوا تھا پھر حضرت عمر نے بیان فرمایا کہ جب اللہ نے نبی کریم صلی یکم کو وفات دی تو انصار ہمارے مخالف ہو گئے اور ہم سب ثقیفہ بنو ساعدہ میں اکٹھے ہو کر اور علی اور زبیر اور جو ان دونوں کے