اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 430 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 430

اصحاب بدر جلد 5 430 ناز و نعم والی زندگی اختیار کرنے سے بچو کیونکہ اللہ کے بندے ناز و نعم والی زندگی اختیار نہیں کرتے۔987 اس سے اس بات کی بھی مزید وضاحت ہو گئی کہ جو ہدیے اور تجارت کا مال تھا وہ قرضوں کی ادائیگی کے لیے تھا اور آنحضرت صلی للی کم کو پتہ تھا کہ ان کا ہاتھ کھلا ہے۔غریبوں کی مدد کرنے والے ہیں اسی پر خرچ کریں گے لیکن پھر بھی یہ نصیحت کر دی کہ یہ سب کچھ اجازتیں میں تمہیں دے رہاہوں اس لیے نہیں کہ نازو نعم کی زندگی گزارو بلکہ اس لیے کہ تمہاری ضروریات پوری ہوں۔اس سے بچنے کی تاکید فرمائی۔حضرت معاذ بیان کرتے ہیں کہ یمن کی طرف روانہ ہونے کے لیے جب میں نے رکاب میں اپنا پاؤں رکھا تو رسول اللہ صلی علیم نے مجھے آخری نصیحت یہ فرمائی کہ لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنا۔لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنا۔آج کل کے مسلمانوں کا حال دیکھیں کہ کیا وہ اسی طرح پیش آتے ہیں اور منارہے ہیں سیرت النبی کی میلاد النبی۔میلاد النبی منانے کی اصل چیز تو یہ ہے کہ آپ صلی الم کے اسوہ اور آپ کی نصائح پر 988 عمل کیا جائے۔جب حضرت معاذ کو آنحضرت صلی علیم نے یمن پر حاکم بنا کر بھیجا تو ان کے رتبہ کو ان الفاظ میں بیان فرمایا کہ إِنِّي بَعَثْتُ لَكُمْ خَيْرٌ أَهْلِی کہ میں اپنے لوگوں میں سے بہترین کو تمہارے لیے بھیجتا ہوا 989 ابن ابو نجیح روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے حضرت معاذ کو اہل یمن کی طرف حاکم بنا کر بھیجا اور اہل یمن کو تحریر فرمایا کہ یقینا میں نے تم پر اپنے لوگوں میں سے بہترین صاحب علم اور صاحب دین شخص کو حاکم بنایا ہے۔0 990 نبی صلی ال کمی کی دس باتوں کی نصیحت ایک حدیث میں آتا ہے ، یہ روایت مسند احمد بن حنبل کی ہے۔حضرت معاذ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے مجھے دس باتوں کی وصیت کرتے ہوئے فرمایا۔پہلی بات یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہر انا خواہ تم قتل کر دیے جاؤ یا جلا دیے جاؤ۔دوسری بات یہ کہ والدین کی نافرمانی نہ کرو خواہ وہ تمہیں گھر بار اور مال سے بے دخل کر دیں۔والدین کی نافرمانی نہیں کرنی چاہے کچھ بھی ہو جائے کچھ بھی ان سے نہ ملے۔پھر تیسری بات یہ فرمائی کہ فرض نماز جان بوجھ کر نہ چھوڑو کیونکہ جان بوجھ کر فرض نماز چھوڑنے والا اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری اور حفاظت سے باہر نکل جاتا ہے۔پھر فرمایا شراب نہ پیو کیونکہ شراب ہر بے حیائی کی جڑ ہے۔پھر فرمایا گناہ اور نافرمانی سے بچو کیونکہ گناہ کی وجہ سے خدا کی ناراضگی نازل ہوتی ہے۔پھر فرمایا دشمن سے مڈھ بھیڑ کے وقت فرار اختیار نہ کرو۔اگر دشمن سے آمنا