اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 428
حصہ 428 اصحاب بدر جلد 5 اپنے قرض کو معاف کر سکتا تھا یامالی قربانی دے سکتا تھا۔لیکن اس میں سے بھی بہت سارا جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے بعض لوگوں نے معاف نہیں کیا اور یہی عرض کیا کہ یارسول اللہ ! ہم تو قرض واپس لیں گے۔بہر حال رسول اللہ صلی علیم نے پھر قرض کی ادائیگی کے لیے حضرت معاذ بن جبل کی جائیداد وغیرہ سب پیچ دی اور حضرت معاذ بن جبل خالی ہاتھ رہ گئے۔پھر جس سال مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ صلی علی یم نے حضرت معاذ کو یمن کے ایک حصے کا امیر بنا کر بھیجا۔یہاں بات مزید واضح ہو جاتی ہے کہ امیر بنا کے بھیجا تھا۔اس لیے ہدیہ وغیرہ جو تھا، جو بطور امیر اُن کو ملتا تھا وہ یہی خیال کیا جاتا ہے کہ بیت المال کا ہو گا۔وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اللہ کے مال میں، بیت المال کے مال میں تجارت کی۔وہ وہاں رہے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللی علم کی وفات ہو گئی اور وہ خوشحال ہو گئے۔اس عرصے میں تجارت میں ان کو فائدہ ہو تارہا اور وہ جتنا لیتے تھے ، لیتے رہے تو خو شحالی ہو گئی۔پھر جب وہ واپس آئے تو حضرت عمر نے حضرت ابو بکر سے کہا کہ اس شخص کو یعنی حضرت معاذ کو بلوائیں اور اس کے پاس اس کی ضرورت کا سامان چھوڑ کر اس سے وصول کر لیں۔آنحضرت صلی یکم نے قرض کی ادائیگی کی اجازت دی تھی۔اب قرض کی ادائیگی ہو گئی اور جو ضرورت کے لیے ایک انسان کو چیزیں چاہئیں وہ بھی ان کے پاس رہنی چاہئیں لیکن یہ جو خوشحالی ہوئی ہے یہ حضرت عمر کے خیال میں نہیں ہونی چاہیے تھی۔اس لیے یہ مال چھوڑ کے باقی جو ہے وصول کر لیں۔اب حضرت ابو بکر کے پاس یہ معاملہ آیا۔حضرت ابو بکر کو جو آنحضرت صلی علیم سے عشق تھا ان کو یہ برداشت نہیں تھا کہ رسول اللہ صلی الی یکم نے کسی چیز کی اجازت دی ہو اور میں اس میں اس کے خلاف کوئی فیصلہ کروں تو بہر حال حضرت ابو بکر نے کہا کہ اس کو رسول اللہ صلی علی کریم نے بھیجا تھا اور میں اس سے کچھ نہیں لوں گا اور یہ کہہ کے بھیجا تھا کہ تم تجارت کر سکتے ہو اور کچھ حصہ لے سکتے ہو یہاں تک کہ وہ خود مجھے دے دیں۔میں نے تو نہیں مانگنا۔رسول اللہ صلی علیم کے ارشاد پہ گئے تھے اور یہ اجازت سے جو بھی ہدیہ اور باقی چیزیں لیتے تھے تو سوائے اس کے کہ مجھے خود دے دیں میں نے نہیں کہنا۔حضرت عمر پھر حضرت معاذ کے پاس گئے۔حضرت عمررؓ بھی بعض اصولوں کے بڑے پکے تھے۔وہ حضرت معاذ کے پاس گئے اور حضرت معاذ سے ذکر کیا۔حضرت معاذ نے کہا رسول اللہ صلی اللی کرم نے مجھے اس کی طرف اس لیے بھیجا تھا تا کہ میری ضرورت پوری ہو اور میں تو کچھ بھی نہیں دوں گا۔اور یہ روایات سے بھی اور ان کی زندگی کے سارے عرصہ اور سیرت سے بھی ثابت ہے کہ اگر تو ان کے پاس خوشحالی بھی تھی تو چند دن کے لیے ہوتی ہو گی کیونکہ اکثر وہ لوگوں میں بانٹ دیا کرتے تھے۔بعض ایسی روایات آگے آئیں گی جن سے پتہ لگتا ہے کہ کس طرح وہ بانٹا کرتے تھے۔پھر اس کے بعد حضرت معاذ حضرت عمرؓ کے پاس گئے اور کہا کہ میں آپ کی بات مانتا ہوں۔پہلے تو حضرت عمر کو کہہ دیا میں کچھ نہیں دوں گا اور پھر کچھ عرصے کے بعد یا کچھ وقفے کے حضرت عمررؓ کے پاس گئے اور کہا اچھا میں آپ کی بات مانتا ہوں اور میں وہی کروں گا جس کا آپ نے کہا ہے کیونکہ میں نے خواب دیکھی ہے ، (کچھ عرصہ کے بعد ہی گئے ہوں گے کیونکہ یہاں خواب کا ذکر ہے)