اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 419
اصحاب بدر جلد 5 419 بوڑھے بھی ہوتے ہیں، بیمار بھی ہوتے ہیں، کام کرنے والے بھی ہوتے ہیں۔فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے؟ حضرت معاذ بن جبل کہتے ہیں کہ میں سواری پر نبی کریم صلی نیلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔میرے اور آپ کے درمیان کجاوہ کا پچھلا حصہ تھا۔آپؐ نے فرمایا اے معاذ بن جبل ! میں نے کہا میں حاضر ہوں یارسول اللہ ! اور یہ میری سعادت ہے۔پھر آپ تھوڑی دیر چلے اور فرمایا اے مُعاذ بن جبل ! میں نے پھر عرض کیا لبیک یارسول اللہ ! میری سعادت ہے۔پھر آپ تھوڑی دیر چلے اور فرمایا اے معاذ بن جبل ! میں نے عرض کیا لبیک یارسول اللہ ! میری سعادت ہے۔فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا بندوں پر کیا حق ہے ؟ میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔فرمایا اللہ کا بندوں پر یہ حق ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں۔یعنی بندے اللہ کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں۔پھر آپ کچھ دیر چلے اور فرمایا اے معاذ بن جبل ! میں نے کہا لبیک یا رسول اللہ ! میری سعادت ہے۔فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے؟ پہلے تو اللہ کا حق ہے جو بندوں نے ادا کرنا ہے۔اب بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے۔جب وہ ایسا کریں، جب وہ بات مان لیں بندے اپنا حق ادا کر دیں تو پھر بندوں کا اللہ پر کیا حق بن جاتا ہے تو میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ صلی علیہم نے فرمایا کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔جو اس طرح اللہ تعالیٰ کی بات ماننے والے ہیں پھر یہ بندوں کا حق بنتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں عذاب نہ دے۔یہ صحیح مسلم کی روایت ہے۔964 حضرت معاذ بن جبل بیان کرتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی کریم صلی اللی کم کے ساتھ تھا۔ایک دن میں آپ کے قریب ہوا اور ہم چل رہے تھے تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ مالی تم مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور مجھے آگ سے دور کر دے۔اس پر آپ صلی علیم نے فرمایا: تم نے تو ایک بڑی بات پوچھی ہے۔بہت بڑی بات ہے یہ۔ہاں یہ بات اس کے لیے آسان ہے جس پر اللہ تعالیٰ آسان کر دے۔پھر آپ نے فرمایا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ، نماز قائم کرو، زکوۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو۔پھر فرمایا کیا میں خیر کے دروازوں کے متعلق نہ بتاؤں۔یہ بات بیان کر کے پھر آپ نے فرمایا کہ خیر کے دروازوں کے متعلق بتاتا ہوں۔فرمایا کہ روزہ ڈھال ہے اور صدقہ گناہوں کو ایسے بجھاتا ہے جیسے پانی آگ کو اور رات کے درمیان آدمی کا نماز پڑھنا یعنی تہجد پڑھنا۔پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: تتجافى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ - فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أَخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَةٍ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ۔یعنی کہ ان کے پہلو بستروں سے الگ ہو جاتے ہیں جبکہ وہ اپنے رب کو خوف اور طمع کی حالت میں پکار رہے ہوتے ہیں۔تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَ طَمَعًا۔اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا کیا وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔پس کوئی ذی روح نہیں جانتا کہ ان کے لیے آنکھوں کی