اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 417 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 417

اصحاب بدر جلد 5 اپنے لوگوں کے پاس آتے اور انہیں نماز پڑھاتے۔0 لیسی نماز پڑھانے پر ناراضنگی 417 960 پہلے مسجد نبوی میں آکے نماز پڑھتے۔پھر اپنے محلے میں چلے جاتے۔وہاں جا کے اپنے لوگوں کو نماز پڑھاتے۔یہ بخاری کی روایت ہے۔حضرت جابر سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاذ نبی صلی الیکم کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے۔پھر آکر اپنے لوگوں کی امامت کرتے تھے۔ایک رات انہوں نے نبی صلی علیم کے ساتھ عشاء کی نماز ادا کی پھر اپنے لوگوں کے پاس آکر ان کی امامت کی تو اس میں سورۃ بقرہ شروع کر دی۔اس پر ایک آدمی الگ ہو گیا اور سلام پھیرا اور اکیلے نماز پڑھی اور جانے لگا۔دیکھا کہ لمبی سورت پڑھ رہے ہیں تو سلام پھیر کے الگ ہو گیا اور آکے علیحدہ نماز پڑھ لی۔اس پر لوگوں نے اسے کہا کہ اے فلاں ! کیا تو منافق ہو گیا ہے ؟ اسے برا بھلا کہا۔اسے کہا تم منافق ہو گئے ہو تم نے باجماعت نماز چھوڑی ہے اور علیحدہ نماز پڑھ رہے ہو۔اس پر اس نے جواب دیا۔نہیں، خدا کی قسم ! میں منافق نہیں ہوں اور میں رسول اللہ صلی الم کی خدمت میں جاؤں گا اور ضرور آپ کو یہ بتاؤں گا کہ میں نے یہ کیا تھا۔منافقت ہوتی تو چھپ جاتا۔میں تو یہ بات جا کے رسول اللہ صلی علیہ یکم کو بتاؤں گا۔چنانچہ وہ شخص رسول اللہ صلی علیکم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ اہم پانی لانے والے اونٹ رکھتے ہیں یعنی اونٹوں پر پانی ایک جگہ سے دوسری جگہ لے کے جاتے ہیں اور لوگوں کے گھروں میں پانی پہنچاتے ہیں تو دن بھر کام کرتے ہیں اور حضرت معاذ نے آپ کے ساتھ عشاء کی نماز ادا کی پھر آکر سورہ بقرہ شروع کر دی۔آپ کے ساتھ نماز پڑھی پھر ہمارے پاس ہمارے محلے میں آئے اور نماز شروع کر دی۔چنانچہ رسول اللہ صلی علیکم حضرت معاذ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ اے معاذ! کیا تم آزمائش میں ڈالنے والے ہو ؟ لوگوں کو کیوں مشکل میں ڈالتے ہو ؟ یہ پڑھا کرو۔اور پھر آپ نے بتایا کہ سورتوں میں کیا پڑھنا ہے۔یہ پڑھا کرو۔دو دفعہ کہا یہ پڑھا کرو۔یہ پڑھا کرو۔حضرت جابر سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا وَالشَّمْسِ وَضُحَهَا اور وَالضُّحَى وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشی اور سبح اسم ربك الأغلی کی تلاوت کیا کرو۔یہ چار مثال کے طور پر آپ نے ان کو بیان فرمائیں۔یہ صحیح مسلم کی روایت ہے۔961 ع بخاری میں ایک روایت اس طرح بھی بیان ہوئی ہے۔حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری کہتے تھے کہ سامنے سے ایک آدمی پانی اٹھانے والے دو اونٹ لیے آرہا تھا۔رات ہو چکی تھی اور اس نے اتفاق سے حضرت معاذ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا۔مسجد میں نماز ہو رہی تھی۔وہ امامت کرا رہے تھے تو اس نے اپنے اونٹ بٹھا دیے اور حضرت معاذ کی طرف چلا آیا۔حضرت معاذ نے سورہ بقرہ یا سورہ نساء پڑھی تو وہ نماز چھوڑ کر چلا گیا۔اسے خبر پہنچی کہ حضرت معاذ نے اس بات کا بُرا منایا ہے تو وہ آدمی جو اونٹوں والا تھا وہ نبی صلی الیکم کے پاس آیا اور آپ کی تعلیم کے پاس حضرت معاذ کی شکایت کی۔تو نبی علی ایم نے تین بار فرمایا اے معاذ! تم تو بہت ہی ابتلا میں ڈالنے والے ہو۔کیوں لوگوں کو ابتلا میں ڈالتے ہو ؟ اتنی لمبی لمبی سورتیں پڑھ کے ابتلا میں ڈالنے والے ہو۔کیوں نہ تم نے سَبْحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَالشَّمْسِ وَضُهَا وَاللَّيْلِ إِذَا