اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 414 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 414

اصحاب بدر جلد 5 414 رض رم ہے کہ غزوہ احد کے بعد جب نبی کریم صلی علی یکم مدینہ واپس تشریف لائے تو گریہ وزاری کی آواز گلیوں سے آرہی تھی۔آپ نے فرمایا یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ انصار کی خواتین ہیں جو اپنے شہد اپر رورہی ہیں۔آپ نے فرمایا حمزہ کے لیے کوئی رونے والا نہیں ہے ؟ آپ صلی یی کم نے حضرت حمزہ کے لیے بخشش کی دعا کی۔جب حضرت سعد بن معاذ اور حضرت سعد بن عبادہ اور حضرت معاذ بن جبل اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے یہ سنا تو وہ اپنے اپنے محلوں میں گئے اور مدینے کی رونے والیوں اور نوحہ کرنے والیوں کو اکٹھا کر کے لائے۔انہوں نے کہا کہ اب کوئی انصار کے شہدا پر نہیں روئے گا جب تک نبی صلی الم کے چا پر نہ رولو کیونکہ آپ نے فرمایا کہ مدینے میں حمزہ کے لیے رونے والا کوئی نہیں۔یہ عشق تھا آنحضرت صلی علیم سے۔آپ کی وجہ سے کہ آپ کو حضرت حمزہ کی تکلیف پہنچی۔949 گو کہ رونا اور نوحہ کرنا منع ہے لیکن یہاں آنحضرت صلی اللہ کریم نے کچھ وقت کے لیے اجازت دی یا لوگوں کے جذبات کو دیکھ کے خود اظہار کیا کہ کاش کہ حمزہ کے لیے بھی جذبات کا اظہار ہو تا لیکن بہر حال یہ نوحہ کرنا عمومی طور پر اسلام میں منع ہے۔خود آنحضرت صلی میم نے منع فرمایا ہے۔فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی علی یوم حسین کی طرف تشریف لے گئے۔حنین جو ہے وہ مکے کے شمال مشرق میں طائف کے قریب ایک وادی ہے تو آپ نے حضرت معاذ بن جبل کو مکے میں پیچھے چھوڑا تا کہ وہ اہل مکہ کو دین سکھائیں اور انہیں قرآن پڑھائیں۔غزوہ تبوک میں شرکت 950 حضرت معاذ بن جبل نے غزوہ تبوک میں بھر پور طریقے سے حصہ لیا۔الله نبی کریم صلی علیم نے جب حضرت کعب بن مالک کے بارے میں پوچھا جو اس وقت مدینہ میں ہی رہ گئے تھے تو بنو سلمہ کے ایک شخص نے آنحضرت صلی ایم کے سامنے حضرت کعب بن مالک کی برائی کی تو حضرت معاذ بن جبل نے اس شخص کو ڈانٹا اور کہا یار سول اللہ ! ہم نے تو ان میں بھلائی ہی دیکھی ہے۔کوئی برائی نہیں دیکھی۔951 یہ تھے اعلیٰ اخلاق کہ پیچھے کسی کی برائی نہیں کرنی۔رض قرآن جمع کرنے والوں میں سے ایک قتادہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی علیم کے زمانے میں چار آدمیوں نے قرآن جمع کیا وہ سب انصار میں سے ہیں۔حضرت معاذ بن جبل "، حضرت ابی بن کعب، حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابوزید حضرت ابوزید حضرت انس کے چچا تھے۔حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے آنحضرت صلی ا ہم کو فرماتے ہوئے سنا کہ چار شخصوں سے قرآن سیکھو ابن مسعود اور ابو حذیفہ کے غلام سالم اور اُبی بن کعب رض اور معاذ بن جبل سے۔953 952