اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 392 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 392

اصحاب بدر جلد 5 392 موعودؓ نے لکھا ہے کہ یہ بھی بیماری کی وجہ ہے۔ادھر ان کے متعلق منافقین میں کھچڑی پکتی رہی۔آخر رسول اللہ علیم کو یہ باتیں پہنچ گئیں۔آپ حضرت عائشہ کی بیماری کو دیکھ کر ان سے دریافت نہیں فرما سکتے تھے۔پوچھا بھی نہیں کہ منافقین کیا باتیں کر رہے ہیں ؟ ادھر دن بدن باتیں زیادہ بڑھتی جاتی تھیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں یہ دیکھ کر حیران ہوتی کہ رسول کریم صلی غیر کم گھر میں تشریف لاتے تو آپ کا چہرہ اترا ہوا ہو تا تھا اور مجھ سے بات نہیں کرتے تھے۔کہتی ہیں بڑا پریشان چہرہ ہو تا تھا اور دوسروں سے میر احال پوچھ کے چلے جاتے تھے۔کہتی ہیں میں آپ کی اجازت سے ایک دن اپنے والدین کے ہاں چلی گئی اور پھر وہی قضائے حاجت والا واقعہ ہوا۔جو رشتہ دار تھیں ان کے ساتھ باہر جاتی تھیں اُس نے اپنے بیٹے مسطح کا نام لے کر کہا کہ اس کا برا ہو۔حضرت عائشہ نے اس پر کہا کہ ایسا کیوں کہتی ہو ؟ اس نے کہا کہ ایسا کیوں نہ کہوں۔تمہیں پتہ نہیں کہ وہ تو اس قسم کی باتیں کرتا ہے۔تو حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے وہ عورت کوئی موقع نکالنا چاہتی تھی کہ بات کہے۔حضرت عائشہ کو بات بتائے کہ آپ پر کیا الزام لگ رہے ہیں کیونکہ ان کو پتہ نہیں تھا۔جب حضرت عائشہ نے یہ بات سنی تو انہیں بڑا سخت صدمہ ہوا۔واپس آ گئیں اور جیسا کہ پہلے انہوں نے ذکر کیا ہے کہ مجھے بڑی نقاہت تھی۔جوں توں کر کے گھر تک پہنچیں مگر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بیماری پھر زور پکڑ گئی۔بہر حال پھر آپ آگے واقعہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی ا ولم نے حضرت عمرؓ، حضرت علی اور اسامہ بن زید کو بلا کر مشورہ لیا کہ کیا کرنا چاہئے۔حضرت عمرؓ اور اسامہ بن زید دونوں نے کہا کہ یہ منافقوں کی پھیلائی ہوئی بات ہے اس میں کوئی حقیقت نہیں لیکن حضرت علی کی طبیعت تیز تھی۔انہوں نے کہا کہ بات کوئی ہو یا نہ ہو۔آپ کو ایسی عورت سے جس پر اتہام لگ چکا ہے تعلق رکھنے کی کیا ضرورت ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا جیسا کہ بیان ہوا ہے کہ آپ اُن کی لونڈی سے پوچھ لیں۔اگر کوئی بات ہوئی تو وہ بتادے گی۔رسول کریم صلی ال کلم نے حضرت عائشہ کی لونڈی بریرہ سے پوچھا کیا تجھے عائشہ کا کوئی عیب معلوم ہے ؟ اُس نے کہا عائشہ کا سوائے اس کے اور کوئی عیب نہیں کہ کم سنی کی وجہ سے وہ سو جاتی ہیں۔جلدی نیند کا غلبہ آجاتا ہے اور پھر گہری نیند آتی ہے اور وہی واقعہ بیان کیا۔بہر حال کہتے ہیں پھر رسول کریم صلی علی ظلم باہر تشریف لائے۔صحابہ کو جمع کیا اور پھر فرمایا کہ کوئی ہے جو مجھے اس شخص سے بچائے جس نے مجھے دکھ دیا ہے۔اس سے مراد آپ کی عبد اللہ بن اُبی بن سلول سے تھی کہ اس نے دکھ دیا ہے۔حضرت سعد بن معاذ جو اوس قبیلہ کے سر دار تھے کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ یارسول اللہ ! اگر وہ شخص ہم میں سے ہے تو ہم اس کو مارنے کے لئے تیار ہیں۔اور اگر وہ خزرج سے ہے تب بھی اس کو مارنے کے لئے تیار ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں کہ شیطان تو ہر وقت فتنہ ڈلوانے کے لئے موقع کی تلاش میں رہتا ہے اس موقع پر بھی شیطان نہیں چونکا۔خزرج کو یہ خیال نہ آیا کہ رسول کریم علی ای کم کو اس بات الله