اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 390
اصحاب بدر جلد 5 سة 390 جب رسول اللہ صلی اللی کم سے وحی کی حالت جاتی رہی تو آپ مسکرارہے تھے اور پہلی بات جو آپ نے فرمائی یہ تھی کہ عائشہ ! اللہ کا شکر بجالاؤ کیونکہ اللہ نے تمہاری بریت کر دی ہے۔کہتی ہیں اس پر میری ماں نے مجھ سے کہا اٹھو رسول اللہ صلی علیکم کے پاس جاؤ۔میں نے کہا اللہ کی قسم ! ہر گز نہیں۔میں ان کے پاس اٹھ کر نہیں جاؤں گی اور اللہ کے سوا کسی کا شکریہ ادا نہیں کروں گی۔اللہ تعالیٰ نے یہ وحی کی تھی۔وہ لوگ یعنی کہ جنہوں نے بہتان باندھا ہے وہ تم ہی میں سے ایک جتھا ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے میری بریت میں یہ وحی نازل کی تو حضرت ابو بکر نے کہا اور وہ مسطح بن اثاثہ کو بوجہ اس کے قریبی ہونے کے خرچ دیا کرتے تھے کہ اللہ کی قسم !جو مسطح نے عائشہ پر افتراء کیا ہے میں اس کے بعد اب اس کو کوئی خرچ نہیں دوں گا۔مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا یعنی سورہ نور کی وہ آیت نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔یہ آیت میں نے پڑھ دی ہے اور اس کا ترجمہ بھی پڑھ دیا ہے۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ تم میں سے صاحب فضیلت اور صاحب توفیق اپنے قریبیوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہ دینے کی قسم نہ کھائیں۔پس چاہئے کہ وہ معاف کر دیں اور در گزر کریں۔کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے اور اللہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔حضرت ابو بکر کہنے لگے کہ کیوں نہیں۔اللہ کی قسم میں ضرور چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے گناہوں کی پردہ پوشی کرتے ہوئے مجھے بخش دے۔مسطح کو جو خوراک وہ دیا کرتے تھے پھر ملنے لگی۔اور رسول اللہ صلی الی یوم حضرت زینب بنت جحش سے بھی میرے معاملے کے بارے میں پوچھا کرتے تھے۔آپ صلی علیہم نے فرما یا زینب ! تم کیا جھتی ہو جو تم نے دیکھا ہے۔وہ کہتیں یا رسول اللہ میں اپنی شنوائی اور بینائی محفوظ رکھوں گی۔میں تو عائشہ کو ، (یعنی کہ میں کبھی یہ نہیں کہہ سکتی) پاکدامن ہی سمجھا ہے۔اپنے کانوں کو اور آنکھوں کو میں محفوظ سمجھتی ہوں اور ہمیشہ محفوظ رکھوں گی۔میں غلط باتیں نہیں کہہ سکتی۔کہتی ہیں میں نے تو عائشہ کو پاکدامن ہی دیکھا ہے اور پاکدامن ہی سمجھتی بھی ہوں۔حضرت عائشہ کہتی تھیں کہ یہی زینب وہ تھیں جو آنحضرت صلی اللہ ﷺ کی ازواج میں سے میری برابری کیا کرتی تھیں۔اللہ نے انہیں پر ہیز گاری کی وجہ سے بچائے رکھا اور ان کی بہن حمنہ بنت جحش اُن کی طرفداری کر رہی تھی اور ہلاک ہو گئی یعنی جن لوگوں نے الزام لگایا تھا اُن کی طرفداری کر رہی تھی اور ان لوگوں کے ساتھ تھی جو ہلاک ہوئے۔895 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت خاتم النبیین میں یہ واقعہ بیان فرمایا ہے جو میں پہلے بخاری کے حوالے سے بیان کر چکا ہوں۔زائد بات جو انہوں نے اس میں لکھی ہے وہ یہ ہے کہ یہ جب کہتی ہیں کہ ان صحابی نے إِنَّا لِلَّهِ وَ اِنَّا اِلَيْهِ رجِعُونَ پڑھا تو میں جاگ اٹھی تو میں نے اس وقت دیکھتے ہی جھٹ اپنا منہ اپنی اوڑھنی سے ڈھانک لیا کیونکہ پردے کا حکم جاری ہو چکا تھا اور خدا کی قسم ! اس نے میرے ساتھ کوئی بات نہیں کی۔انہوں نے بات بھی کوئی نہیں کی اور نہ میں نے اس کلمہ کے سوا ان کے منہ سے کوئی