اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 374 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 374

اصحاب بدر جلد 5 374 کر دیا اور رسول اللہ صلی ا لی ہے اور آپ کے خاندان کی مستورات کو گالیاں دینے لگے اور کہا ہم نہیں جانتے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کیا چیز ہیں ؟ ہمارا ان کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہے۔حضرت علی ان کا یہ جواب لے کر واپس لوٹے تو اتنے میں رسول اللہ صلی الی یوم صحابہ کے ساتھ یہود کے قلعوں کی طرف جارہے تھے چونکہ یہود گندی گالیاں دے رہے تھے اور رسول اللہ صلیالی کم کی بیویوں اور بیٹیوں کے متعلق بھی ناپاک کلمات بول رہے تھے تو حضرت علی نے اس خیال سے کہ آپ کو ان کلمات کے سننے سے تکلیف ہو گی عرض کیا کہ یارسول اللہ ! آپ کیوں تکلیف کرتے ہیں! ہم لوگ اس لڑائی کے لیے کافی ہیں۔آپ واپس تشریف لے جائیں۔رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا میں سمجھتا ہوں کہ وہ گالیاں دے رہے ہیں اور تم یہ نہیں چاہتے کہ میرے کان میں وہ گالیاں پڑیں۔حضرت علیؓ نے عرض کیا کہ ہاں یار سول اللہ آبات تو یہی ہے۔رسول اللہ صلی الم نے فرمایا پھر کیا ہوا اگر وہ گالیاں دیتے ہیں۔موسیٰ نبی تو ان کا اپنا تھا اس کو اس سے بھی زیادہ انہوں نے تکلیفیں پہنچائی تھیں۔یہ کہتے ہوئے آپ یہود کے قلعوں کی طرف چلے گئے مگر یہود دروازے بند کر کے قلعہ بند ہو گئے اور مسلمانوں کے ساتھ لڑائی شروع کر دی حتی کہ ان کی عورتیں بھی لڑائی میں شریک ہوئیں۔چنانچہ قلعہ کی دیوار کے نیچے کچھ مسلمان بیٹھے تھے کہ ایک یہودی عورت نے اوپر سے پتھر پھینک کر ایک مسلمان کو مار دیا لیکن کچھ دن کے محاصرہ کے بعد یہود نے یہ محسوس کر لیا کہ وہ لمبا مقابلہ نہیں کر سکتے۔تب ان کے سرداروں نے رسول اللہ صلی علیم سے خواہش کی کہ وہ ابولبابہ انصاری کو جو ان کے دوست اور اوس قبیلہ کے سردار تھے ان کے پاس بھجوائیں تاکہ وہ ان سے مشورہ کر سکیں۔آپ نے ابولبابہ کو بھجوا دیا۔ان سے یہود نے یہ مشورہ پوچھا کہ کیا محمد رسول اللہ صلی الم کے اس مطالبہ کو کہ فیصلہ میرے سپرد کرتے ہوئے تم ہتھیار پھینک دو، ہم یہ مان لیں ؟ ابولبابہ نے منہ سے تو کہا ہاں! لیکن اپنے گلے پر اس طرح ہاتھ پھیر اجس طرح قتل کی علامت ہوتی ہے۔رسول اللہ صلی الیم نے اس وقت تک اپنا کوئی فیصلہ ظاہر نہیں کیا تھا مگر ابولبابہ نے اپنے دل میں یہ سمجھتے ہوئے کہ ان کے اس جرم کی سزا یعنی جو مخالفین تھے، معاہدہ توڑنے والے یہودی تھے ان کے اس جرم کی سزا سوائے قتل کے اور کیا ہو گی۔بغیر سوچے سمجھے اشارہ کے ساتھ ان سے ایک بات کہہ دی جو آخر ان کی تباہی کا موجب ہوئی۔چنانچہ یہود نے کہ دیا کہ ہم محمد رسول اللہ صلی علی یم کا فیصلہ مان لیتے تو دوسرے یہودی قبائل کی طرح ان کو زیادہ سے زیادہ یہی سزا دی جاتی کہ ان کو مدینہ سے جلاوطن کر دیا جاتا مگر ان کی بد قسمتی تھی۔"یہود نے فیصلہ نہیں مانا اور یہ کہا کہ اگر وہ مان لیتے تو یہی ہوتا کہ ان کو جلا وطنی کی سزا ہو جاتی مگر ان کی بد قسمتی تھی کہ " انہوں نے کہا کہ ہم محمد رسول اللہ صلی علیم کا فیصلہ ماننے کے لیے تیار نہیں بلکہ ہم اپنے حلیف قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذ کا فیصلہ مانیں گے۔جو فیصلہ وہ کریں گے ہمیں منظور ہو گا لیکن اس وقت یہود میں اختلاف ہو گیا۔یہود میں سے بعض نے کہا کہ ہماری قوم نے غداری کی ہے اور مسلمانوں کے رویے سے ثابت ہو تا ہے کہ ان کا مذہب سچا ہے وہ لوگ اپنا مذ ہب ترک کر کے اسلام میں داخل ہو گئے۔ایک شخص عمرو بن سعدی