اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 372
اصحاب بدر جلد 5 372 معلوم ہوا کہ آپ صلی علیہم نے حضرت محمد بن مسلمہ کو بلایا ہے۔حضرت ابو بکر نے عرض کی یارسول اللہ ! آپ اٹھ کر چلے آئے اور ہمیں علم نہ ہوا۔آپؐ نے فرمایا کہ یہودی میرے ساتھ دھو کا کرنا چاہتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے مجھے بتادیا تو میں اٹھ کر چلا آیا۔اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی کہ : يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْهَمَّ قَوْمٌ أَنْ يَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ فَكَقَ ايْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاتَّقُوا اللهَ ۖ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ (المائدة:11) کہ اے ایمان دار و ! تم اللہ کی اپنے اوپر نعمت یاد کرو جو اس وقت ہوئی تھی جب ایک قوم نے ارادہ کیا تھا کہ تم پر دست درازی کرے تب اس نے اس قوم کے ہاتھ تم سے روک دیے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور مومنوں کو اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے۔یہود بنو نضیر کو جلا وطن کرنے کا فیصلہ بہر حال حضرت محمد بن مسلمہ کو آنحضرت صلی علیم نے یہود کے پاس بھجوایا اور اس کا واقعہ اس طرح بیان ہوا ہے کہ جب حضرت محمد بن مسلمہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی علیہم نے فرمایا کہ بنو نضیر کے یہودیوں کے پاس جاؤ۔انہیں کہو مجھے رسول اللہ صلی علیم نے تمہارے پاس بھیجا ہے کہ تم میرے شہر سے نکل جاؤ۔وہ یہودیوں کے پاس گئے کیونکہ انہوں نے یہ سازش کی تھی اور اپنے عہد کا پاس نہیں کیا تھا، اس کو توڑا تھا اس لیے ان کی سزا یہ تھی کہ شہر سے نکل جائیں۔وہ یہودیوں کے پاس گئے۔انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی علیم نے مجھے تمہارے پاس ایک پیغام دے کر بھیجا ہے لیکن میں اس کا تذکرہ تب تک نہیں کروں گا جب تک میں تمہیں ایک ایسی بات نہ یاد کرادوں جسے تم اپنی مجالس میں یاد کیا کرتے تھے۔ایک پرانی بات کا ذکر کیا کہ وہ میں تمہیں یاد کرانا چاہتا ہوں۔پھر یہود نے پوچھا کہ وہ کیا امر ہے ؟ حضرت محمد بن مسلمہ نے کہا کہ میں تمہیں اس تورات کی قسم دیتا ہوں جسے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ پر نازل کیا۔کیا تم جانتے ہو کہ حضرت محمد مصطفی صلی میں کم کی بعثت سے قبل میں تمہارے پاس آیا تھا تم نے اپنے سامنے تو رات کھول رکھی تھی تم نے مجھے اس محفل میں کہا تھا کہ اسے ابن مسلمہ ! اگر تم چاہتے ہو کہ ہم تمہیں کھانا پیش کریں تو ہم تمہیں کھانا پیش کرتے ہیں۔اگر تم چاہتے ہو کہ ہم تمہیں یہودی بنائیں تو ہم تمہیں یہودی بنا دیتے ہیں۔حضرت محمد بن مسلمہ " کہتے ہیں کہ میں نے اس وقت کہا تھا کہ مجھے کھانا کھلاؤ، مجھے یہودی نہ بناؤ۔بخدا میں کبھی بھی یہودی نہیں بنوں گا۔پھر واقعہ ہوا کہ تم نے مجھے ایک طشت میں کھانا دیا اور تم لوگوں نے مجھے کہا تھا کہ تم یہ دین صرف اس لیے قبول نہیں کرتے کیونکہ یہ یہودیوں کا مذہب ہے۔یعنی یہودیوں نے محمد بن مسلمہ کو کہا کہ تم اس لیے قبول نہیں کرتے کہ یہ یہودیوں کا مذہب ہے۔گویا تم وہ حنیفیت چاہتے ہو جس کے بارے میں تم نے سن رکھا ہے۔ابو عامر راہب تو اس کا مصداق نہیں ہے۔یعنی جو سن رکھا ہے کہ نبی آنے والا ہے۔اور ابو عامر راہب جو ہے وہ اس کا مصداق نہیں بن سکتا۔پھر انہوں نے کہا کہ اب تمہارے پاس وہ ہستی آئے گی جو مسکرانے والی ہے ، جو جنگ کرنے والی ہے۔اس کی آنکھوں میں سرخی ہے۔وہ یمن کی طرف سے آئیں گے۔وہ اونٹ پر سواری کریں گے۔وہ