اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 371
اصحاب بدر جلد 5 اس حاشیے کو آئندہ نکال دینا چاہیے۔371 اکثر میں نے دیکھا ہے کہ بعض دفعہ جلد بازی سے کام لے کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جو الفاظ ہیں ان کا مطلب نکالنے کے لیے یا آسانی پیدا کرنے کے لیے حاشیے میں لکھ دیا جاتا ہے یہ غلطی تھی یا سہو ہو گیا۔حالانکہ بہت ساری ریسرچ کرنے کی ضرورت ہے، توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اس لیے بہر حال اب یہ حوالہ تو میرے سامنے آگیا تھا اور بڑا واضح لکھا ہوا ہے کہ یہ الفاظ حسین اور اُحد دونوں مواقع پر آنحضرت صلی علیم نے فرمائے تھے۔بہر حال یہ وضاحت اس بارے میں بھی ہو گئی۔اب آگے پھر آپ فرماتے ہیں کہ اگر کسی حدیث میں توریہ کو بطور تسامح کذب کے لفظ سے بیان بھی کیا گیا ہو تو یہ سخت جہالت ہے۔یعنی الفاظ کو آسان کرنے کے لیے، سمجھانے کے لیے اگر کہیں کذب کا لفظ لکھ بھی دیا ہے تو فرمایا کہ یہ سخت جہالت ہے کہ کوئی شخص اس کو حقیقی کذب پر محمول کرے جبکہ قرآن اور احادیث صحیحہ بالا تفاق کذب حقیقی کو سخت حرام اور پلید ٹھہراتے ہیں اور اعلیٰ درجہ کی حدیثیں توریہ کے مسئلہ کو کھول کر بیان کر رہی ہیں تو پھر اگر فرض بھی کر لیں کہ کسی حدیث میں بجائے تو ریہ کے کذب کا لفظ آگیا ہو تو نعوذ باللہ اس سے مراد حقیقی کذب کیونکر ہو سکتا ہے بلکہ اس کے قائل کے نہایت بار یک تقویٰ کا یہ نشان ہو گا جس نے توریہ کو کذب کی صورت میں سمجھ کر بطور تسامح کذب کا لفظ استعمال کیا ہو۔ہمیں قرآن اور احادیث صحیحہ کی پیروی کرنا ضروری ہے۔اگر کوئی امر اس کے مخالف ہو گا تو ہم اس کے وہ معنے ہر گز قبول نہیں کریں گے جو مخالف ہوں۔پھر آپ فرماتے ہیں قرآن نے جھوٹوں پر لعنت کی ہے اور نیز فرمایا ہے کہ جھوٹے شیطان کے مصاحب ہوتے ہیں اور جھوٹے بے ایمان ہوتے ہیں اور جھوٹوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور صرف یہی نہیں فرمایا کہ تم جھوٹ مت بولو بلکہ یہ بھی فرمایا ہے کہ تم جھوٹوں کی صحبت بھی چھوڑ دو اور ان کو اپنا یار دوست مت بناؤ اور خدا سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو اور ایک جگہ فرماتا ہے کہ جب تو کوئی کلام کرے تو تیری کلام محض صدق ہو۔ٹھٹھے کے طور پر جنسی کے طور پر بھی اس میں جھوٹ نہ ہو۔867 یہ تو اس کے حوالے سے بیان ہو رہا تھا جو پہلے بیان ہو ا تھا۔وضاحت ہو گئی۔نبی صلی الم کے قتل کی سازش اب میں حضرت محمد بن مسلمہ کے باقی زندگی کے حوالے سے آگے چلتا ہوں۔جب بنو نضیر نے دھو کے سے آنحضور ملی لی کم پر چکی کا پاٹ گرا کر قتل کرنے کی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اس کی خبر آنحضور علی ایم کو کر دی تھی اس پر رسول اللہ صلی ا یکم تیزی سے اٹھے گویا آپ صلی لی ہم کسی ضرورت کے لیے اٹھے ہیں اور آپ صلی علی کم مدینہ تشریف لائے۔رسول اللہ صلی علیم کے جانے کے بعد آپ صلی الیکم کے صحابہ کرام بھی کچھ دیر انتظار کے بعد آپ کے پیچھے مدینہ آگئے۔جب صحابہ کرام مدینہ پہنچے تو انہیں