اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 370
اصحاب بدر جلد 5 370 ر قتل کیے جاؤ مگر سچ ہی بولو تو پھر اگر فرض کے طور پر کوئی حدیث قرآن اور احادیث صحیحہ کے مخالف ہو تو وہ قابل سماعت نہیں ہوگی کیونکہ ہم لوگ اسی حدیث کو قبول کرتے ہیں جو احادیث صحیحہ اور قرآن کریم کے مخالف نہ ہو۔آپ فرماتے ہیں کہ ہاں بعض احادیث میں توریہ کے جواز کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔یعنی مصلحت کے تحت بعض ذو معنی الفاظ بیان کر دیے۔اور اسی کو نفرت دلانے کی غرض سے کذب کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔اور جب ذو معنی بات ہوتی ہے تو اسی بات کو مخالفین نفرت دلانے کے لیے جھوٹ کے نام سے موسوم کر رہے ہیں اور فرمایا کہ اور ایک جاہل اور احمق جب ایسا لفظ کسی حدیث میں بطور تسامح کے لکھا ہوا پاوے یعنی کسی کو سمجھانے کے لیے جب کوئی لفظ اس کو آسان کر کے استعمال کیا جاتا ہے۔اس کو تسامح کے پاوے تو شاید اس کو حقیقی کذب ہی سمجھ لے کیونکہ وہ اس قطعی فیصلے سے بے خبر ہے کہ حقیقی کذب اسلام میں پلید اور حرام اور شرک کے برابر ہے مگر توریہ جو در حقیقت کذب نہیں گو کذب کے رنگ میں ہی اضطرار کے وقت عوام کے واسطے اس کا جو از حدیث سے پایا جاتا ہے مگر پھر بھی لکھا ہے کہ افضل وہی لوگ ہیں جو توریہ سے بھی پر ہیز کریں اور توریہ اسلامی اصطلاح میں اس کو کہتے ہیں کہ فتنہ کے خوف سے ایک بات کو چھپانے کے لیے یا کسی اور مصلحت پر ایک راز کی بات مخفی رکھنے کی غرض سے ایسی مثالوں اور پیرایوں میں اس کو بیان کیا جائے کہ عقلمند تو اس بات کو سمجھ جائے اور نادان کی سمجھ میں نہ آئے اور اس کا خیال دوسری طرف چلا جائے جو متکلم کا مقصود نہیں اور غور کرنے کے بعد معلوم ہو کہ جو کچھ متکلم نے کہاوہ جھوٹ نہیں بلکہ حق محض ہے اور کچھ بھی کذب کی اس میں آمیزش نہ ہو اور نہ دل نے ایک ذرہ بھی کذب کی طرف میل کیا ہو۔آپ فرماتے ہیں کہ جیسا کہ بعض احادیث میں دو مسلمانوں میں صلح کرانے کے لیے یا اپنی بیوی کو کسی فتنہ اور خانگی ناراضگی اور جھگڑے سے بچانے کے لیے یا جنگ میں اپنے مصالح دشمن سے مخفی رکھنے کی غرض سے اور دشمن کو اور طرف جھکا دینے کی نیت سے تو ریہ کا جواز پایا جاتا ہے مگر باوصف اس کے بہت سی حدیثیں دوسری بھی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ توریہ اعلی درجہ کے تقویٰ کے بر خلاف ہے اور بہر حال کھلی کھلی سچائی بہتر ہے اگر اس کی وجہ سے قتل کیا جائے اور جلایا جائے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی الم نے حتی الوسع اس سے مجتنب رہنے کا حکم کیا ہے تا مفہوم کلام کا اپنی ظاہری صورت میں بھی کذب سے مشابہ نہ ہو۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ جب میں دیکھتا ہوں کہ جناب سید المرسلین صلی ال کی جنگ احد میں اکیلے ہونے کی حالت میں برہنہ تلواروں کے سامنے کہہ رہے تھے کہ میں محمد ہوں، میں نبی اللہ ہوں، میں ابن عبد المطلب ہوں۔یہاں یہ وضاحت کر دوں کہ جب کتاب چھپی تھی تو اسی کتاب کے حاشیے میں لکھا ہے کہ یہ سہو سے لکھا گیا ہے۔یہ واقعہ غزوہ حنین کا ہے۔جنگ احد کا نہیں۔حالانکہ اب مجھے ہمارے ریسرچ سیل نے ہی سیرة رة الحلبیہ کا حوالہ نکال کر بھجوایا ہے جس میں لکھا ہے کہ یہ الفاظ آنحضرت صلی ملی یکم نے حنین اور احد دونوں جنگوں میں فرمائے تھے۔اس لیے اب اشاعت کا جو شعبہ ہے ، نظارت اشاعت بھی ہے ان کو بھی