اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 369
اصحاب بدر جلد 5 369 گھر سے دور لے جا کر قتل کیا تو کیا یہ جھوٹ نہیں ہے؟ نیز یہ بھی بیان ہوا تھا کہ ایک حدیث کے حوالے سے بعض علماء کے نزدیک تین موقعوں پر جھوٹ کی اجازت ہے، لیکن حقیقت میں یہ غلط تصور ہے یا حدیث کی غلط تشریح ہے جو کہ تین موقعوں پر غلط بیان کو یا جھوٹ کو جائز قرار دیتی ہے۔بہر حال میں نے اُس وقت اس کی وضاحت کر دی تھی جو سیرت خاتم النبیین میں بیان ہوئی ہے لیکن اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنی کتاب نور القرآن میں وضاحت سے روشنی ڈالی ہے جو ایک عیسائی کے اعتراض کے جواب میں آپ نے بیان فرمائی ہے۔اس کا کچھ حصہ، اس میں سے بعض حصے میں ابھی بیان کروں گا جس سے اس بات کی بالکل وضاحت ہو جاتی ہے کہ اسلام جھوٹ بولنے کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔اسلام جھوٹ بولنے کی اجازت نہیں دیتا حضرت مسیح موعود علیہ السلام عیسائی کے اعتراض کے جواب کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک یہ اعتراض ہے کہ : آنحضرت صلی اللہ ہم نے تین جگہ جھوٹ بولنے کی اجازت دی ہے اور اپنے دین کو چھپالینے کے واسطے قرآن میں صاف حکم دے دیا ہے مگر انجیل نے ایمان کو پوشیدہ رکھنے کی اجازت نہیں دی۔یہ اعتراض ہے۔اس کے جواب میں آپ فرماتے ہیں کہ واضح ہو کہ جس قدر راستی کے التزام کے لیے قرآن شریف میں تاکید ہے میں ہر گز باور نہیں کر سکتا کہ انجیل میں اس کا عشر عشیر بھی تاکید ہو۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ قرآن شریف نے دروغ گوئی کو بت پرستی کے برابر ٹھہرایا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَولَ النُّورِ - یعنی بتوں کی پلیدی اور جھوٹ کی پلیدی سے پر ہیز کرو۔پھر ایک جگہ فرماتا ہے: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوْمِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَ لَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ یعنی اے ایمان والو! انصاف اور راستی پر قائم ہو جاؤ اور سچی گواہیوں کو للہ ادا کرو اگرچہ تمہاری جانوں پر ان کا ضرر پہنچے یا تمہارے ماں باپ اور تمہارے اقارب ان گواہیوں سے نقصان اٹھاویں۔آپ اس معترض کو مخاطب ہو کر فرماتے ہیں کہ اب اے ناخدا ترس ذرا اکھیل کو کھول اور ہمیں بتلا کہ راست گوئی کے لیے ایسی تاکید انجیل میں کہاں ہے ؟ پھر اسی عیسائی کو جس کا نام فتح مسیح تھا مخاطب کر کے پھر آپ لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی للہ ہم نے تین جگہ جھوٹ بولنے کی اجازت دی ہے مگر یہ آپ کو اپنی جہالت کی وجہ سے غلطی لگی ہے اور اصل بات یہی ہے کہ کسی حدیث میں جھوٹ بولنے کی ہر گز اجازت نہیں بلکہ حدیث میں تو یہ لفظ ہیں کران قُتِلْتَ وَأُخْرِقْتَ یعنی سچ کو مت چھوڑ اگر چہ تو قتل کیا جائے اور جلایا جائے۔پھر جس حالت میں قرآن کہتا ہے کہ تم انصاف اور سچ مت چھوڑو اگرچہ تمہاری جانیں بھی اس سے ضائع ہوں اور حدیث کہتی ہے کہ اگر چہ تم جلائے جاؤ