اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 346 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 346

اصحاب بدر جلد 5 346 حضرت مالک کی شادی جمیلہ بنت اُبی بن سکول سے ہوئی جو رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی بن سلول کی ہمشیرہ تھیں۔33 833 سہیل بن عمرو کو قیدی بنانے کے موقع پر حضرت مالک نے یہ اشعار کہے تھے أَسَرْتُ سُهَيْلًا فَلَا ابْتَغِيَ أَسِيرًا بِهِ مِنْ جَمِيعِ الْأُمَمُ وَخِنَدَفُ تَعْلَمُ أَنَّ الْفَتَى فَتَاهَا سُهَيْلٌ إِذَا يُظْلَمُ ضَرَبَتْ بِذِي الشَّفْرِ حَتَّى انْثَى وَأَكْرَهُتُ نَفْسِي عَلَى ذِي الْعَلَمُ 834 کہ میں نے سہیل کو قیدی بنایا اور اس کے بدلہ میں تمام اقوام سے کسی کو بھی قیدی نہیں بنانا چاہتا۔بنو خندف جانتے ہیں کہ سہیل ہی اپنے قبیلہ کا جوانمرد ہے جب ان پر ظلم کیا جائے۔میں نے جھنڈے والے پر وار کیا یہاں تک کہ وہ جھک گیا اور میں نے کٹے ہوئے ہونٹ والے سے، مراد سہیل بن عمر و سے تھا، جنگ کرنے پر اپنے آپ کو مجبور کیا۔غزوہ بدر کے قیدیوں کے حوالے سے اسد الغابہ میں ایک روایت ہے کہ ابو صالح حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ ابوئیسر مالک بن دخشم عوفی اور طارق بن عبید انصاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جو اس جنگ میں کسی کو قتل کرے گا اسے اتنا ملے گا اور جو کسی کو قید کرے گا اسے اتنا ملے گا اور ہم نے ستر لوگوں کو قتل کیا اور ستر کو قید کیا۔835 اس پر حضرت سعد بن معاذ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم بھی ان لوگوں کی طرح کر سکتے تھے مگر ہم نے صرف اس وجہ سے نہیں کیا کیونکہ ہم مسلمانوں کی پیچھے کی طرف سے حفاظت کر رہے تھے۔عنیمتیں تھوڑی ہیں اور لوگ بہت ہیں۔اگر آپ ان لوگوں کو اتنادیں گے جس قدر آپ نے وعدہ کیا ہے تو بعض لوگوں کے حصہ میں کچھ بھی نہیں آئے گا۔پس یہ لوگ باتیں کرتے رہے کہ اتنے میں اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی کہ يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ (الانفال:2) کہ اے رسول ! لوگ تجھ سے اموال غنیمت کے متعلق سوال کرتے ہیں۔تو ان سے کہہ دے کہ اموالِ غنیمت اللہ اور اس کے رسول کے ہیں۔غزوۂ احد کے دن حضرت مالک بن دختم حضرت خارجہ بن زید کے پاس سے گزرے۔حضرت خارجہ زخموں سے چور بیٹھے ہوئے تھے۔ان کو تیرہ کے قریب مہلک زخم آئے تھے۔حضرت مالک نے ان سے کہا کیا آپ کو معلوم نہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم شہید کر دیے گئے ہیں۔حضرت خارجہ نے کہا اگر آپ کو شہید کر دیا گیا ہے تو یقینا اللہ زندہ ہے اور وہ نہیں مرے گا۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام پہنچا دیا ہے۔فَقَاتِلُ عَن دِينِكَ اس لیے تم بھی اپنے دین کے لیے قتال کرو۔836 ایک دوسری روایت میں اس واقعہ کا ذکر یوں ملتا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے