اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 310 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 310

اصحاب بدر جلد 5 310 کی اونٹنی کہاں ہے۔اس پہ آنحضرت صلی علیم نے فرمایا کہ خدا کی قسم میں نہیں جانتا ماسوائے اس کے جس کا اللہ تعالیٰ نے مجھے علم دیا ہے۔غیب کا علم تو میں نہیں جانتا، ہاں اللہ تعالیٰ بتاتا ہے تو میں بتاتا ہوں۔اور پھر آپ نے اس منافق کا منہ بند کرنے کے لئے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے خبر بھی دے دی پھر کہ یقیناً اللہ تعالیٰ نے مجھے اونٹنی کے متعلق بتایا ہے کہ وہ فلاں فلاں گھاٹی میں ہے اور ایک گھائی کی طرف اشارہ کیا۔اس کی مہار ایک درخت سے اٹک گئی ہے پس جاؤ اور اسے میرے پاس لے آؤ۔پس صحابہ گئے اور اسے لے آئے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس منافق کا منہ بند کرنے کے لئے یہ بھی آپ کو نظارہ دکھادیا کہ اونٹنی کہاں ہے اور کس جگہ کھڑی ہے۔بیہقی اور ابونعیم بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمارہ اپنے ہو دن کی طرف گئے اور کہا اللہ کی قسم آج ایک عجیب بات ہوئی ہے۔ابھی رسول کریم صلی اللہ ہم نے ہمیں ایک شخص کی بات کے متعلق بتایا جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی علیم کو آگاہ فرمایا تھا۔یہ واضح ہو گیا کہ جو منافق کی بات تھی اس کے بارے میں بھی اللہ تعالی نے ہی آپ کو آگاہ فرمایا تھا اور وہ زید بن صلت کی بات تھی۔حضرت عمارہ کے ہو دج میں سے ایک شخص نے بتایا کہ اللہ کی قسم زید نے آپ کے آنے سے پہلے وہ بات کی ہے جو آپ نے ابھی بتائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی علیہ نکم کو بتایا۔تو زید نے آپ کے آنے سے پہلے بالکل یہی بات تھی۔اس پر حضرت عمارہ نے زید کو گردن سے دبوچ لیا اور اپنے ساتھیوں کو کہنے لگے کہ اے اللہ کے بندو ! میرے ہودج میں ایک سانپ تھا اور میں اس کو اپنے ہو رج سے باہر نکالنے سے بے خبر تھا اور زید کو مخاطب کر کے کہا کہ آئندہ میرا تم سے کوئی تعلق نہیں۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ زید نے بعد میں تو بہ کر لی اور بعض کا خیال ہے کہ اسی طرح شرارتوں میں ملوث رہا حتی کہ مر گیا۔9 حضرت زیاد بن نعیم حضرت عمارہ بن حزم سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی ا ہم نے فرمایا کہ چار باتیں ایسی ہیں کہ جس نے ان پر عمل کیا وہ مسلمانوں میں سے ہو گیا اور جس نے ان میں سے ایک بھی چھوڑی تو باقی تین اسے کچھ فائدہ نہیں دیں گی۔حضرت زیاد بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمارہ 729 730 سے پوچھا کہ وہ چار باتیں کون سی ہیں تو انہوں نے بتایا کہ وہ نماز ہے، زکوۃ ہے، روزہ ہے اور حج ہے۔ان چاروں باتوں پہ ایمان لانا اور عمل کرنا ضروری ہے۔نماز بھی فرض ہے۔زکوۃ بھی جن پر فرض ہے ان پر ضروری ہے۔روزہ بھی صحت کی حالت میں رکھنا ضروری ہے۔اور حج بھی جن پر فرض ہے ضروری ہے، جو ادا کر سکتے ہیں یہ فریضہ ان کو ادا کرناضروری ہے۔بہر حال ان چاروں باتوں پر ایمان لانا بھی ضروری ہے اور ان پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔اب یہ باتیں اسد الغابہ میں لکھی ہوئی ہیں۔یہی کتابیں ہیں، مسلمان خود ہی اپنے مسلمان ہونے کی تعریف بیان کرتے ہیں اور خود ہی ایسے بھی علماء پیدا ہو گئے ہیں جو کفر کے فتوے لگاتے ہیں اور انہوں نے مسلمان ہونے کی اپنی اپنی تعریف بنائی ہوئی ہے۔731