اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 309 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 309

اصحاب بدر جلد 5 309 الله منافقین کو مسجد نبوی سے نکال دیا گیا سیرت ابن ہشام میں لکھا ہے کہ مسجد نبوی میں منافقین آیا کرتے تھے اور مسلمانوں کی باتیں سن کر بعد میں ان کا تمسخر اڑاتے تھے، ان کے دین کا استہزاء کیا کرتے تھے۔بعض دفعہ سامنے بھی ایسی باتیں کر لیا کرتے تھے۔ایک دن منافقین میں سے کچھ لوگ مسجد نبوی میں جمع ہوئے تو رسول کریم صلی ا ہم نے انہیں آپس میں سر گوشیاں کرتے دیکھا۔رسول کریم صلی الی تم نے ان کے متعلق حکم دیا کہ ان کو مسجد سے نکال دو۔پس وہ مسجد سے نکال دیئے گئے۔حضرت ابو ایوب، عمر بن قیس کی طرف گئے جو بنو غنم بن مالک بن نجار میں سے تھا اور وہ جاہلیت کے زمانے میں ان کے بتوں کا نگران بھی تھا۔انہوں نے اسے ٹانگ سے پکڑا اور گھسیٹتے ہوئے مسجد سے باہر نکال دیا۔وہ کہتا جار ہا تھا کہ اے ابو ایوب ! کیا تو مجھے بنو ثعلبہ کی مجلس سے نکالے گا؟ پھر آپ رافع بن ودیعہ کی طرف گئے اور وہ بھی بنو نجار میں سے تھا۔اسے بھی اپنی چادر میں لپیٹا اور زور سے کھینچا اور ایک تھپڑ مار کے اس کو مسجد سے باہر نکال دیا۔ابو ایوب کہہ رہے تھے کہ اے خبیث منافق تجھ پر لعنت ہو! رسول کریم صلی کم کی مسجد سے دور چلا جا۔حضرت عمارہ بن حزم، زید بن عمرو کی طرف گئے اور اس کی داڑھی سے اسے پکڑا اور گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئے اور مسجد سے باہر نکال دیا۔پھر حضرت عمارہ نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے سینے پر اتنے زور سے مارے کہ وہ گر گیا۔اس نے کہا اے عمارہ ! تو نے مجھے زخمی کر دیا ہے۔اس پر حضرت عمارہ نے کہا کہ اے منافق ! اللہ تجھے ہلاک کرے۔جو عذاب اللہ تعالیٰ نے تیرے لئے تیار کیا ہے وہ اس سے زیادہ شدید ہے۔پس آئندہ رسول اللہ صلی علیم کی مسجد کے قریب نہ آنا۔728 غزوہ تبوک کے موقع پر جب رسول کریم صلی یکم تبوک کی طرف تشریف لے جارہے تھے راستے میں ایک جگہ آپ صلی علی کم کی اونٹنی قصوی گم ہو گئی۔صحابہ رسول صلی الی یوم اسے ڈھونڈھنے کے لئے نکلے۔رسول کریم صلی علیکم کے پاس حضرت عمارہ بن حزم بھی تھے جو کہ بیعت عقبہ میں شامل ہوئے تھے اور بدری صحابی تھے جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے، اور حضرت عمرو بن حزم کے بھائی تھے۔بیان کرنے والے پھر بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمارہ کے ہو دج میں زید بن صلت تھا، یعنی وہ ان لوگوں میں شامل تھا جو ان کی سواریوں وغیرہ پہ مقرر تھا، جو اونٹ کی سواری تھی اس پہ ہو دج رکھنے والا تھا۔وہ قبیلہ بنو قینقاع سے تعلق رکھتا تھا اور یہودی تھا۔اونٹ کی سواری کے لئے بیٹھنے کی جو سیٹ ہوتی ہے اس کو رکھنے والے بعض لوگ مقرر تھے۔یہودی تھا پھر مسلمان ہوا اور اس نے نفاق ظاہر کیا۔زید جو مسلمان ہوا تھا لیکن دل میں منافقت تھی بڑا معصوم بن کے پوچھنے لگا کہ کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ وہ نبی ہیں اور ہ تمہیں آسمان کی خبروں سے آگاہ کرتے ہیں جبکہ وہ خود نہیں جانتے کہ ان کی اونٹنی کہاں گئی ہے۔اس وقت حضرت عمارہ رسول کریم صلی الیکم کے پاس تھے۔یہ بات آپ تک بھی کسی طرح پہنچی یا اللہ تعالیٰ نے خبر دے دی تو آپ صلی اللہ ہم نے فرمایا کہ یقینا ایک شخص نے کہا ہےکہ محمد صلی الی یکم تم لوگوں کو تو بتاتا ہے کہ وہ نبی ہے اور گمان کرتا ہے کہ وہ تم لوگوں کو آسمان کی خبروں سے آگاہ کرتا ہے جبکہ وہ خود نہیں جانتا کہ اس