اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 299
اصحاب بدر جلد 5 299 کہ حضرت عمار بن یاسر" کو شہید کر دیا گیا ہے۔حضرت معاویہ نے پوچھا کہ عمارڑ کو شہید کر دیا گیا ہے تو پھر کیا ہوا ؟ حضرت عمرو نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی یم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس کو باغی گروہ قتل کرے گا اور معاویہ نے کہا کہ کیا ہم نے اس کو شہید کیا ہے ؟ ان کو تو حضرت علیؓ نے اور ان کے ساتھیوں نے مروایا ہے جنہوں نے ان کو لا کر ہمارے نیزوں کے سامنے یا ہماری تلواروں کے سامنے 694 ڈال دیا ہے۔بہر حال حضرت عمرو بن عاص میں ایک تو نیکی تھی جو اُن کو فکر پیدا ہوئی لیکن امیر معاویہ نے اس کو اتنی اہمیت نہیں دی۔بہر حال صحابہ کو بڑی فکر ہوا کرتی تھی جب ان کو کوئی روایت پہنچتی تھی یا خود انہوں نے کبھی سنا ہو کہ آنحضرت صلی علی یکم نے کسی بارے میں انذار فرمایا ہے یا کوئی خوشخبری دی۔حضرت عائشہ نے حضرت عمار کے متعلق فرمایا کہ "وہ ایڑھیوں سے لے کر اپنے سر کی چوٹی تک ایمان سے بھرے ہوئے تھے۔"695 حضرت خباب حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضرت عمرؓ نے ان سے کہا کہ قریب ہو جاؤ۔اس مجلس کا آپ سے زیادہ کوئی حقدار نہیں سوائے عمار کے۔پھر حضرت خباب حضرت عمرؓ کو اپنی کمر کے زخموں کے نشان دکھانے لگے جو انہیں مشرکین نے پہنچائے تھے۔696 حضرت عمران کی عزت افزائی فرما رہے تھے کیونکہ انہوں نے ابتدائی زمانے میں بہت تکلیفیں اٹھائیں اور ساتھ ہی حضرت عمار کے بارے میں بتایا کہ انہوں نے بھی بہت زیادہ تکلیفیں اٹھائیں۔ایک روایت حضرت عمارہ کی حضرت علی کی شہادت کے بارے میں بھی ہے جو آنحضرت صلی ایم کی پیشگوئی سے متعلق ہے۔حضرت عمار بن یاسر سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ غزوہ ذات العشیرہ میں میں اور حضرت علی رفیق سفر تھے۔جب رسول اللہ صلی علی یم نے ایک مقام پر اپنا پڑاؤ ڈالا۔ہم نے بنو مد ینج کے کچھ لوگوں کو دیکھا جو اپنے باغات کے چشموں میں کام کر رہے تھے۔حضرت علی مجھ سے کہنے لگے کہ آؤ ان لوگوں کے پاس چل کر دیکھتے ہیں کہ یہ کسی طرح کام کرتے ہیں۔چنانچہ ہم ان کے قریب چلے گئے۔تھوڑی دیر تک ہم نے ان کے کام کو دیکھا پھر ہمیں نیند آگئی۔چنانچہ میں اور حضرت علی واپس آگئے اور ایک باغ میں مٹی کے اوپر ہی لیٹ گئے۔اللہ کی قسم ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی علی کرم نے ہی آکر اٹھا یایا جگایا۔آپ ہمیں پاؤں سے ہلا رہے تھے اور ہم مٹی سے لت پت ہو چکے تھے۔اس دن رسول اللہ صلی علیہ یکم نے حضرت علی سے فرمایا کہ اے ابو تراب! اس مٹی کی وجہ سے جو اُن پر نظر آرہی تھی آپ نے ان کو ابو تراب کہا۔آپ صلی للہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ان دو آدمیوں کے متعلق نہ بتاؤں جو لوگوں میں سب سے زیادہ بد بخت ہیں۔ہم نے عرض کیا کیوں نہیں یارسول اللہ ! آپ نے فرمایا ایک تو قوم محمود کا وہ سرخ و سفید آدمی جس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹی تھیں اور دوسر اوہ آدمی اے علی جو تمہارے سر پر وار کرے گا اور تمہاری داڑھی کو خون سے تر کر دے گا۔697