اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 292 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 292

اصحاب بدر جلد 5 292 عثمان کو ، جو سفیر کے طور پر گئے تھے ان کو انہوں نے شہید کیا ہے یا قتل کیا ہے۔مسجد قباء سب سے پہلی مسجد جو بنائی گئی ایک روایت میں ہے حضرت حکم بن عتیبہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی یکم جب مدینہ تشریف لائے تو چاشت کے وقت وہاں پہنچے تھے۔حضرت عمار نے کہا کہ رسول اللہ صلی علیم کے لئے کوئی ایسی جگہ بنانی چاہئے جہاں آپ چھاؤں میں بیٹھ سکیں۔آرام کر سکیں اور نماز پڑھیں۔چنانچہ حضرت عمار نے چند پتھر جمع کئے اور مسجد قبا کی بنیاد ڈالی۔یہ سب سے پہلی مسجد ہے جو بنائی گئی اور حضرت عمار نے اس 669 کو بنایا۔حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے جنگ یمامہ میں حضرت عمار کو دیکھا کہ وہ ایک بلند چٹان پر کھڑے ہو کر مسلمانوں کو پکار رہے تھے۔بڑے بہادر تھے کہ اے مسلمانوں کے گروہ! کیا تم جنت سے بھاگ رہے ہو۔میں عمار بن یاسر ہوں۔آؤ میرے پاس آؤ۔حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں دیکھ رہا تھا کہ ان کا ایک کان کٹ پر کا تھا اور ہل رہا تھا لیکن آپ لڑائی میں مصروف تھے۔670 طارق بن شہاب کہتے ہیں اسی کٹے ہوئے کان کے حوالے سے بنو تمیم کے ایک شخص نے عمار کو اجدع یعنی کان کٹا ہوا ہونے کا طعنہ دیا۔حضرت عمار نے اسے کہا کہ تو نے میرے بہترین کان کو برا بھلا کہا ہے۔671 یعنی وہ کان جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جنگ کرتے ہوئے قربان ہو ا تم اس کو برا کہہ رہے ہو اس کا طعنہ مجھے دے رہے ہو یہ تو میرا بہترین کان ہے۔رسول اللہ صل الم نے فرمایا جو عمار سے دشمنی رکھے گا اللہ اس سے دشمنی رکھے گا حضرت خالد بن ولید بیان کرتے ہیں کہ میرے اور حضرت عمار کے درمیان کچھ گفتگو ہوئی اور میں نے ان کو کوئی سخت بات کہہ دی۔حضرت عمار بن یاسر میری شکایت کرنے کے لئے نبی کریم صلی علیکم کے پاس گئے۔میں بھی وہاں پہنچ گیا۔اس وقت وہ نبی کریم صلی علیکم کو میری ہی شکایت کر رہے تھے۔وہاں بھی میں سختی سے پیش آیا۔نبی کریم صلی للی کم خاموش بیٹھے ہوئے تھے اور کوئی بات نہیں فرمارہے تھے۔حضرت عمار رونے لگے اور عرض کی یارسول اللہ صلی ال یکم آپ خالد کی حالت نہیں دیکھتے۔رسول اللہ صلی اللہ کریم نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا جو عمار سے دشمنی رکھے گا اللہ اس سے دشمنی رکھے گا اور جو شخص عمار سے بغض رکھتا ہے اللہ اس سے بغض رکھے گا۔حضرت خالد بن ولید بیان کرتے ہیں کہ اس وقت مجھے دنیا میں اس بات سے زیادہ کوئی بات محبوب نہ تھی کہ کسی طرح حضرت عمار مجھ سے راضی ہو جائیں۔حضرت خالد کہتے ہیں کہ میں حضرت عمار سے ملا اور ان سے معافی مانگی۔پس وہ راضی ہو گئے۔اس کی تفصیل ایک جگہ اس طرح بیان ہوئی ہے۔آشتر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت خالد بن ولید کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی العلیم نے مجھے ایک سریہ پر بھیجا۔(ایک جنگ میں ایک فوج بھیجی 672