اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 290 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 290

اصحاب بدر جلد 5 290 برداشت کرتے تھے مگر اپنے رفیقوں کی مصیبت دیکھ کر ان کا دل ہاتھ سے نکل جاتا تھا۔" اپنے ظلم تو آنحضرت صلی للی کم برداشت کر لیتے تھے لیکن اپنے ساتھیوں کا ظلم آپ کو بڑا تکلیف دیتا تھا " اور بیتاب ہو جاتا تھا۔ان غریب مومنوں پر ظلم و ستم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔لوگ ان غریبوں کو پکڑ کر جنگل میں لے جاتے اور برہنہ کر کے جلتی تپتی ریت میں لٹا دیتے اور ان کی چھاتیوں پر پتھر کی سلیں رکھ دیتے۔وہ گرمی کی آگ سے تڑپتے۔مارے بوجھ کے زبان باہر نکل پڑتی۔بہتیروں کی جانیں اس عذاب سے نکل گئیں۔انہی مظلوموں میں سے ایک شخص عمارؓ تھا جسے اس حوصلہ اور صبر کی وجہ سے جو اس نے ظلموں کی برداشت میں ظاہر کیا۔" پھر آپ لکھتے ہیں کہ " حضرت عمار کہنا چاہئے۔ان کی مشکیں باندھ کر اسی پتھر یلی تپتی زمین پر لٹاتے تھے اور ان کی چھاتی پر بھاری پتھر رکھ دیتے تھے اور حکم دیتے تھے کہ محمد کو گالیاں دو اور یہی حال ان کے بڑھے باپ کا کیا گیا۔ان کی مظلوم بی بی سے جس کا نام سمیہ تھا یہ ظلم نہ دیکھا گیا اور وہ عاجزانہ فریاد زبان پر لائی۔اس پر وہ بے گناہ ایماندار عورت جس کی آنکھوں کے روبرو اس کے شوہر اور جوان بچے پر ظلم کیا جاتا تھا برہنہ کی گئی اور اسے سخت بے حیائی سے ایسی تکلیف دی گئی جس کا بیان کرنا بھی داخل شرم ہے۔آخر اس عذاب شدید میں تڑپ تڑپ کر اس ایماندار بی بی کی جان نکل گئی۔تو یہ خلاصہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس ہندو کی کتاب میں سے بیان کیا جو اس نے آنحضرت صلی علم کی سیرت کے بارے میں اور آپ کے صحابہ کے بارے میں لکھی تھی۔سفیان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمار وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اپنے گھر میں عبادت کے لئے مسجد بنائی تھی۔مدینہ ہجرت اور مواخات 660 65911 661 حضرت عمار بن یاسر مدینہ ہجرت کر کے آئے تو حضرت مبشر بن عبد المنذر کے ہاں قیام کیا۔آنحضرت صلی علیہم نے حضرت حذیفہ بن الیمان اور حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ کی مؤاخات قائم فرمائی اور رسول اللہ صلی علی کلم نے حضرت عمار کی سکونت کے لئے ایک قطعہ زمین مرحمت فرمایا۔11 عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں ابو سلمہ اور ام سلمہ نے ہجرت کی اور حضرت عمار بن یاسر چونکہ ان کے حلیف تھے اس لئے وہ بھی ان کے ہمراہ چلے گئے۔حضرت عمار بن یاسر حضرت ام سلمہ کے رضاعی بھائی بھی تھے۔662 نبی سلیم نے عمار کے سر سے غبار پونچھا اور فرمایا کہ افسوس! باغی گروہ انہیں مار ڈالے گا عکرمہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس نے ان سے اور اپنے بیٹے علی بن عبد اللہ سے کہا کہ حضرت ابوسعید خدری کے پاس جاؤ اور ان کی بات سنو۔ہم ان کے پاس آئے اور وہ اور ان کا بھائی اپنے