اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 268 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 268

اصحاب بدر جلد 5 268 دونوں بازوؤں سے کپڑا اوپر کیا، اپنے بازو کی آستینیں چڑھائیں، قمیض کی آستینیں چڑھائیں۔مطلب نے کہا، جس نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی یی کم سے روایت کیا ہے اس نے کہا کہ گویا میں اب بھی رسول اللہ صلی علیم کے دونوں بازوؤں کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔ابھی بھی مجھے وہ واقعہ بڑی اچھی طرح یاد ہے اور آنحضور صلی ایم کے بازو خو بصورت تھے۔ان کی سفیدی مجھے نظر آرہی ہے۔جب آپ نے ان سے کپڑا ہٹایا تھا، آستینیں چڑھائی تھیں۔پھر آپ نے وہ پتھر اٹھایا اور اسے حضرت عثمان بن مظعون کے سرھانے رکھ دیا اور فرمایا میں اس نشانی کے ذریعہ اپنے بھائی کی قبر پہچان لوں گا اور میرے اہل میں سے جو وفات پائے گا اسے میں اس کے پاس دفن کروں گا۔سنن ابی داؤد کا یہ حوالہ ہے۔607 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے حضرت عثمان بن مظعون کی وفات سے متعلق جو تفصیل بیان کی ہے اس میں سے چند باتیں پیش کرتا ہوں۔آپ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب 2 ہجری کے واقعات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : " اسی سال کے آخر میں آنحضرت صلی یہ کلم نے اپنے صحابہ کے لیے مدینے میں ایک مقبرہ تجویز فرمایا جسے جنت البقیع کہتے تھے۔اس کے بعد صحابہ عموماً اس مقبرے میں دفن ہوتے تھے۔سب سے پہلے صحابی جو اس مقبرے میں دفن ہوئے وہ عثمان بن مظعون تھے۔عثمان بہت ابتدائی مسلمانوں میں سے تھے اور نہایت نیک اور عابد اور صوفی منش آدمی تھے۔مسلمان ہونے کے بعد ایک دفعہ انہوں نے آنحضور صلی الم سے عرض کیا کہ حضور مجھے اجازت مرحمت فرمائیں تو میں چاہتا ہوں کہ بالکل تارک الدنیا ہو کر اور بیوی بچوں سے علیحدگی اختیار کر کے اپنی زندگی خالصتا عبادت الہی کے لیے وقف کر دوں مگر آپ نے اس کی اجازت نہیں دی۔" اس کی تفصیل بھی میں گذشتہ خطبے میں بیان کر چکا ہوں۔بہر حال پھر یہ مرزا بشیر احمد صاحب ہی آگے لکھتے ہیں کہ :۔عثمان بن مظعون کی وفات کا آنحضرت صلی لیلی کیم کو بہت صدمہ ہوا اور روایت آتی ہے کہ وفات کے بعد آپ نے ان کی پیشانی پر بوسہ دیا اور اس وقت آپ کی آنکھیں پر نم تھیں۔ان کے دفنائے جانے کے بعد آپ صلی الی ایم نے ان کی قبر کے سرھانے ایک پتھر بطور علامت کے نصب کروا دیا اور پھر آپ کبھی کبھی جنت البقیع میں جاکر ان کے لیے دعا فرمایا کرتے تھے۔عثمان پہلے مہاجر تھے جو مدینہ میں فوت ہوئے۔6081 آپ کی بیوی کا مرثیہ حضرت عثمان بن مظعون کی وفات پر آپ کی بیوی نے مرثیہ لکھا اور وہ یہ تھا کہ : يَا عَيْنُ جُوْدِيَ بِدَمْعِ غَيْرِ مَمْنُونِ على أَمْرِی بَاتَ فِي رِضْوَانِ خَالِقِهِ طَابَ الْبَقِيعُ لَهُ سُكْنَى وَغَرْقَدُهُ عَلَى رَزِيَّةِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونِ طوبى لَهُ مِنْ فَقِيْدِ الشَّخْصِ مَدْفُونِ وَأَشْرَقَتْ أَرْضُهُ مِنْ بَعْدِ تَعْيِيْنِ