اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 254
اصحاب بدر جلد 5 254 وہاں سے عثمان بن مظعون کا گزر ہوا۔وہ رسول اللہ صلی ال نیم کو دیکھ کر مسکرائے۔رسول اللہ صلی ا لم نے ان سے فرمایا کیا تم بیٹھو گے نہیں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔چنانچہ وہ آپ کے سامنے آکے بیٹھ گئے۔آنحضرت صلی اللہ علم ان سے بات کر رہے تھے کہ اچانک رسول اللہ صلی الی یکم نے اپنی نگاہیں اوپر کو اٹھائیں اور آپ صلی الیم نے ایک لمحے کے لیے آسمان کی طرف دیکھا۔پھر آہستہ آہستہ اپنی نگاہیں نیچی کرنے لگے یہاں تک کہ آپ نے زمین پر اپنے دائیں طرف دیکھنا شروع کر دیا اور اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے عثمان سے منہ پھیر کر دوسری طرف متوجہ ہو گئے اور اپنا سر جھکا لیا۔آپ صلی المیہ یکم اس دوران میں اپنے سر کو یوں ہلاتے رہے گو یا کسی بات کو سمجھ رہے ہیں۔عثمان بن مظعون پاس بیٹھے ہوئے تھے ، یہ سب دیکھ رہے تھے۔تھوڑی دیر بعد جب رسول اللہ صلی علیم اس کام سے فارغ ہوئے یا جو بھی اس وقت صورت حال تھی اس سے فارغ ہوئے اور جو کچھ آپ سے کہا جارہا تھا، جو بظاہر لگ رہا تھا کہ کچھ کہا جارہا ہے، حضرت عثمان کو تو نہیں پتا تھا لیکن بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ سے کہا جا رہا تھا وہ آپ نے سمجھ لیا تو پھر آپ کی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھیں جیسے پہلی مرتبہ ہوا تھا۔آپ کی نگاہیں کسی چیز کا پیچھا کرتی رہیں یہاں تک کہ وہ چیز آسمان میں غائب ہو گئی۔اس کے بعد آپ صلی علیہ کم پہلے کی طرح عثمان بن مظعون کی طرف متوجہ ہوئے تو عثمان کہنے لگے کہ میں کس مقصد کی خاطر آپ کے پاس آؤں اور بیٹھوں ؟ حضرت عثمان نے کہا، آنحضرت صلی الیم یہ سوال کیا کہ آج آپ نے جو کچھ کیا ہے اس سے پہلے میں نے آپ کو ایسا کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔سن علی یم نے پوچھا کہ تم نے مجھے کیا کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ عثمان بن مظعون کہنے لگے کہ میں نے دیکھا۔آپ کی نظریں آسمان کی طرف اٹھ گئیں۔پھر آپ نے دائیں جانب اپنی نظریں جما دیں۔آپ مجھے چھوڑ کر اس طرف متوجہ ہو گئے۔آپ نے اپنا سر ہلانا شروع کر دیا گویا جو کچھ آپ سے کہا جارہا ہے اسے آپ سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔آپ نے فرمایا کیا واقعی تم نے ایسا محسوس کیا ہے ؟ عثمان بن مظعونؓ کہنے لگے جی۔تو رسول اللہ صلی علی کریم نے فرمایا ابھی ابھی میرے پاس اللہ کا قاصد آیا تھا، پیغام لے کے آیا تھا جب تم میرے پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے۔عثمان بن مظعون نے کہا کہ اللہ کا قاصد ؟ سوال کیا۔آپ صلی علیکم نے فرمایا ہاں۔عثمان نے پوچھا پھر اس نے کیا کہا؟ آپ نے فرمایا اس نے کہا یہ تھا کہ اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَابْتَاى ذِي الْقُرْبى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُم تذكرون (النحل: 191 یعنی یقین اللہ عدل اور احسان کا اور اقربا پر کی جانے والی عطا کی طرح عطا کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی اور نا پسندیدہ باتوں اور بغاوت سے منع کرتا ہے۔وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کرو۔عثمان بن مظعون کہتے ہیں کہ یہ وہ وقت تھا جب میرے دل میں ایمان نے اپنی جگہ پکی کر لی اور مجھے محمد صلی للی نام سے محبت ہو گئی۔حضرت مصلح موعود آنحضرت صلی الله نام کے اعلان نبوت کے بعد ابتدائی دور کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک قریب زمانہ میں یعنی اس زمانے کے ابتدا میں طلحہ اور زبیر اور عمر اور حمزہ اور عثمان بن مطعون اس قسم کے ساتھی آپ کو مل گئے جن میں سے ہر شخص آپ کا فدائی تھا۔ہر شخص آپ کے پسینے کی جگہ اپنا خون بہانے کے لیے تیار تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تیرہ سال تک مصائب بھی آئے، 583