اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 247 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 247

اصحاب بدر جلد 5 247 پاس سے گزرو انہیں جہاد کی ترغیب دینا اور دشمن کے ساتھ ہوشیاری سے برتاؤ کرنا اور اللہ سے ڈرتے رہنا جو تمہارا رب ہے۔پہلے شخص جنہوں نے بصرہ کو آباد کیا رض حضرت عمر نے حضرت مشبہ کو بصرہ کی طرف آٹھ سو آدمیوں کے ساتھ روانہ فرمایا تھا۔بعد میں مزید مدد بھی پہنچائی۔حضرت عُتبہ نے ابلہ مقام کو فتح کیا اور اس جگہ بصرہ شہر کی حد بندی کی۔آپ پہلے شخص ہیں جنہوں نے بصرہ کو شہر بنایا اور اسے آباد کیا۔حضرت عمر بن خطاب نے جب حضرت عُتبہ بن غزوان کو بصرہ پر والی مقرر فرمایا تو خریبہ مقام پر وہ ٹھہرے تھے۔تحریبہ فارس کا ایک پرانا شہر تھا جسے فارسی میں وَهْشَتَابَاذْ اُردشیر کہتے تھے۔عربوں نے اسے خَرِیبہ کا نام دیا۔اس کے پاس جنگ جمل بھی ہوئی تھی۔حضرت عتبہ نے حضرت عمررؓ کے نام خط میں لکھا کہ مسلمانوں کے لیے ایک ایسی جگہ ناگزیر ہے جہاں وہ سردیوں کا موسم گزار سکیں اور جنگوں سے واپسی پر ٹھہر سکیں۔حضرت عمرؓ نے انہیں لکھا کہ انہیں ایک ایسی جگہ جمع کرو جہاں پانی اور چراگاہ قریب ہو۔اگر یہ منصوبہ ہے تو جگہ ایسی ہونی چاہیے جہاں پانی بھی موجود ہو اور جانوروں کے لیے چراگاہ بھی ہو۔اس پر حضرت عتبہ نے انہیں بصرہ میں جا ٹھہرایا۔مسلمانوں نے وہاں بانس سے مکان تعمیر کیے۔حضرت عتبہ نے بانس سے مسجد تعمیر کروائی۔یہ 14 ہجری کا واقعہ ہے۔حضرت عُتبہ نے مسجد کے قریب ہی کھلی جگہ پر امیر کا گھر بنوایا۔لوگ جب جنگ کے لیے نکلتے تو ان بانس سے بنے گھروں کو اکھاڑتے اور باندھ کر رکھ جاتے اور جب واپس آتے تو اسی طرح دوبارہ گھر بناتے۔بعد میں لوگوں نے وہاں پکے مکان بنانے شروع کیے۔حضرت عُتبہ نے منجن بن آذرغ کو حکم دیا جس نے بصرہ کی جامع مسجد کی بنیاد ڈالی اور اسے بانسوں سے تیار کیا۔اس کے بعد حضرت عُتبہ حج کرنے کے لیے نکلے اور مُجاشع بن مسعود کو جانشین بنایا، اپنا قائم مقام بنایا اور اسے فرات کی طرف کوچ کا حکم دیا اور حضرت مغیرہ بن شعبہ کو حکم دیا کہ وہ نماز کی امامت کیا کریں۔جب حضرت عُشبہ حضرت عمرؓ کے پاس پہنچے تو انہوں نے بصرہ کی ولایت سے استعفیٰ دینا چاہا۔رض کہہ دیا کہ اب میرے لیے بڑا مشکل ہے کسی اور کو وہاں کا امیر مقرر کر دیں۔تاہم حضرت عمر نے ان کا استعفیٰ منظور نہیں کیا۔روایت میں آتا ہے کہ اس پر انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ ! مجھے اب اس شہر کی طرف دوبارہ نہ لوٹانا۔چنانچہ وہ اپنی سواری سے گر پڑے اور 17 ہجری میں ان کا انتقال ہو گیا۔یہ اُس وقت ہوا جبکہ حضرت عُتبہ مکہ سے بصرہ کی طرف جارہے تھے اور اس مقام پر پہنچ گئے تھے جس کو لوگ معین بنی سُلیم کہتے ہیں۔ایک دوسرے قول کے مطابق 17 ہجری میں ربذہ مقام پر ان کا انتقال ہوا تھا اور ایک تیسرا قول بھی ہے۔ان کی وفات کے بارے میں مختلف روایتیں ہیں کہ 17 ہجری میں ستاون سال کی عمر پا کر بصرہ میں حضرت عتبہ نے وفات پائی تھی۔انہیں پیٹ کی بیماری تھی اور بعض نے ان کی وفات کا سال 15 ہجری بھی بیان کیا ہے۔حضرت عُتبہ کی