اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 244 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 244

اصحاب بدر جلد 5 244 پھر طبعاً یہ بھی اندیشہ تھا کہ اب جو قریش کے ان قافلہ والوں نے مسلمانوں کو دیکھ لیا ہے تو اس خبر رسانی جس کے لیے بھیجے گئے تھے اس کار از مخفی نہیں رہ سکتا۔ایک وقت یہ بھی تھی کہ بعض مسلمانوں کو خیال تھا کہ شاید یہ دن رجب یعنی شہرِ حرام کا آخری ہے جس میں عرب کے قدیم دستور کے مطابق لڑائی نہیں ہونی چاہیے اور بعض سمجھتے تھے کہ رجب گزر چکا ہے اور شعبان شروع ہے اور بعض روایات میں ہے کہ یہ سر یہ جمادی الآخر میں بھیجا گیا تھا اور شک یہ تھا کہ یہ دن جمادی کا دن ہے یار جب کا لیکن دوسری طرف نخلہ کی وادی عین حرم کے علاقہ کی حد پر واقع تھی اور یہ ظاہر تھا کہ اگر آج ہی کوئی فیصلہ نہ ہوا تو کل کو یہ قافلہ حرم کے علاقہ میں داخل ہو جائے گا جس کی حرمت یقینی ہو گی۔غرض ان سب باتوں کو سوچ کر مسلمانوں نے آخر یہی فیصلہ کیا کہ قافلہ پر حملہ کر کے یا تو قافلہ والوں کو قید کر لیا جائے اور یا مار دیا جائے۔بہر حال انہوں نے حملہ کر دیا جس کے نتیجہ میں کفار کا ایک آدمی مارا گیا اور دو آدمی قید ہو گئے۔چوتھا آدمی بھاگ کر نکل گیا اور مسلمان اسے پکڑ نہ سکے اور اس طرح ان کی تجویز کامیاب ہوتے ہوتے رہ گئی۔اس کے بعد مسلمانوں نے قافلہ کے سامان پر قبضہ کر لیا اور چونکہ قریش کا ایک آدمی بچ کر نکل گیا تھا اور یقین تھا کہ اس لڑائی کی خبر جلدی مکہ پہنچ جائے گی تو عبد اللہ بن جحش اور ان کے ساتھی سامانِ غنیمت لے کر جلد جلد مدینہ کی طرف واپس لوٹ آئے۔اس موقع پر مار گولیس صاحب لکھتے ہیں کہ دراصل محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ دستہ دیدہ دانستہ اس نیت سے شہر حرام میں بھیجا تھا کہ چونکہ اس مہینہ میں قریش طبعاً غافل ہوں گے ، مسلمانوں کو ان کے قافلہ کے لوٹنے کا آسان اور یقینی موقع مل جائے گا لیکن ہر عقل مند انسان سمجھ سکتا ہے کہ ایسی مختصر پارٹی کو اتنے دور دراز علاقہ میں کسی قافلہ کی غارت گری کے لیے نہیں بھیجا جاسکتا خصوصا جبکہ دشمن کا ہیڈ کوارٹر اتنا قریب ہو اور پھر یہ بات تاریخ سے قطعی طور پر ثابت ہے کہ یہ پارٹی محض خبر رسانی کی غرض سے بھیجی گئی تھی اور آنحضرت صلی علیم کو جب یہ علم ہوا کہ صحابہ نے قافلہ پر حملہ کیا تو آپ سخت ناراض کو ہوئے اور جب یہ جماعت آنحضرت صلی علی کم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کو سارے حالات سنائے اور ماجرے کی اطلاع دی تو آپ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ میں نے تمہیں شہر حرام میں لڑنے کی اجازت نہیں دی ہوئی اور آپ نے مالِ غنیمت بھی لینے سے انکار کر دیا۔اس پر عبد اللہ اور ان کے ساتھی سخت نادم اور پشیمان ہوئے۔اور انہوں نے خیال کیا کہ بس اب ہم خدا اور اس کے رسول کی ناراضگی کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔صحابہ نے بھی ان کو سخت ملامت کی کہ تم نے کیا کیا۔شہر حرام میں لڑنا بہت بری بات ہے لیکن۔۔۔!! دوسری طرف قریش نے بھی شور مچایا کہ مسلمانوں نے شہر حرام کی حرمت کو توڑ دیا ہے اور چونکہ جو شخص مارا گیا تھا یعنی عمر و بن الحضرمی وہ ایک رئیس آدمی تھا اور پھر وہ عُتبہ بن ربیعہ رئیس مکہ کا حلیف