اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 243 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 243

اصحاب بدر جلد 5 243 شامل افراد ہیں اگر ان میں سے کسی کو کچھ تامل ہو ، اعتراض ہو ، متامل ہوں اور اگر واپس آنا چاہے تو واپس آسکتے ہیں کوئی پابندی نہیں ہے۔بہر حال آپ نے فرمایا اسے واپس آنے کی اجازت دے دینا۔عبد اللہ نے آپ کی یہ ہدایت اپنے ساتھیوں کو سنادی اور سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہم بخوشی اس خدمت کے لیے حاضر ہیں۔اس کے بعد یہ جماعت نخلہ کی طرف روانہ ہوئی۔راستہ میں سعد بن ابی وقاص اور عُتبہ بن غزوان کا اونٹ کھو گیا اور وہ اس کی تلاش کرتے کرتے اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گئے اور باوجو د بہت تلاش کے انہیں نہ مل سکے یعنی اپنے ساتھیوں کو نہ مل سکے اور اب یہ پارٹی جو گئی تھی یہ صرف چھ کس کی رہ گئی۔اس میں صرف چھ افراد رہ گئے۔ایک مستشرق مارگولیس کا ایک ناحق اعتراض اور اس کا جواب رم حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ایک مستشرق ہے مار گولیس اس کے متعلق لکھا ہے کہ اس نے اس موقع پر یہ لکھا کہ سعد بن ابی وقاص اور عتبہ نے جان بوجھ کر اپنا اونٹ چھوڑ دیا تھا اور اس بہانہ سے پیچھے رہ گئے تھے۔آپ لکھتے ہیں کہ ان جاں نثارانِ اسلام پر جن کی زندگی کا ایک ایک واقعہ ان کی شجاعت اور فدائیت پر شاہد ہے اور جن میں سے ایک غزوہ بئر معونہ میں کفار کے ہاتھوں شہید بھی ہوا اور دوسرا کئی خطر ناک معرکوں میں نمایاں حصہ لے کر بالآخر عراق کا فاتح بنا، ان کے بارے میں اس قسم کا شبہ محض اپنے من گھڑت خیالات کی بنا پر کرنا مٹر مار گولیس ہی کا حصہ ہے اور پھر لطف یہ ہے کہ مارگولیس اپنی کتاب میں یہ بھی دعویٰ کرتا ہے کہ میں نے یہ کتاب ہر قسم کے تعصب سے پاک ہو کر لکھی ہے۔بہر حال یہ تو ان لوگوں کا طریق ہے جہاں بھی اسلام اور مسلمانوں پر اعتراض کا موقع ملے یہ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔اب اصل واقعہ جو سریہ کا تھا اس کی طرف آتا ہوں۔حرمت والا مہینہ اور جنگ؟ یہ مسلمانوں کی چھوٹی سی جماعت تھی، جب نخلہ پہنچی اور اپنے کام یعنی انفار میشن لینے ، اطلاعات لینے میں مصروف ہو گئی کہ کفار مکہ کی موومنٹس (movements) کیا ہیں۔ان کے ارادے کیا ہیں۔مسلمانوں کے بارے میں کوئی حملے کا منصوبہ تو نہیں؟ تو یہ معلومات لینے میں، اپنے کام میں وہ مصروف ہو گئی اور ان میں سے بعض نے اخفائے راز کے خیال سے اپنے سر کے بال بھی منڈوا دیے تا کہ راہ گیر وغیرہ ان کو عمرے کے خیال سے آئے ہوئے لوگ سمجھ کر کسی قسم کا شبہ نہ کریں لیکن ایک دن اچانک وہاں قریش کا ایک چھوٹا سا قافلہ بھی آپہنچا جو طائف سے مکہ کی طرف جارہا تھا اور ہر دو جماعتیں ایک دوسرے کے سامنے ہو گئیں۔مسلمانوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اب کیا کرنا چاہیے۔آنحضرت صلی علیم نے ان کو خفیہ خفیہ خبر رسانی کے لیے بھیجا تھا، کوئی باقاعدہ حملے کے لیے نہیں بھیجا تھا لیکن دوسری طرف قریش سے جنگ شروع ہو چکی تھی یعنی آمنے سامنے ہو گئے تھے اور دونوں حریف ایک دوسرے کے سامنے تھے اور