اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 241 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 241

اصحاب بدر جلد 5 241 گزارہ زیادہ تر تجارت پر تھا اور ان حالات میں قریش کو زیر کرنے اور ان کو ان کی ظالمانہ کارروائیوں سے روکنے اور صلح پر مجبور کرنے کا یہ سب سے زیادہ یقینی اور سریع الاثر ذریعہ تھا کہ ان کی تجارت کا راستہ بند کر دیا جاوے۔چنانچہ تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ جن باتوں نے بالآخر قریش کو صلح کی طرف مائل ہونے پر مجبور کیا ان میں ان کے تجارتی قافلوں کی روک تھام کا بہت بڑا دخل تھا۔پس یہ ایک نہایت دانشمندانہ تدبیر تھی جو اپنے وقت پر کامیابی کا پھل لائی۔پھر یہ بھی کہ قریش کے ان قافلوں کا نفع بسا اوقات اسلام کو مٹانے کی کوشش میں صرف ہو تا تھا بلکہ بعض قافلے تو خصوصیت کے ساتھ اسی غرض سے بھیجے جاتے تھے کہ ان کا سارا نفع مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔اس صورت میں ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ان قافلوں کی روک تھام خود اپنی ذات میں بھی ایک بالکل جائز مقصود تھی۔559 رض 560 سريه عبيدة بن حارث جس میں حضرت عُتبہ قریش کے لشکر سے نکل کر مسلمان سے جاملے تھے اس کا مزید ذکر اس طرح ہے۔کچھ حصہ تو میں گذشتہ کسی خطبے میں بیان کر چکا ہوں۔بہر حال مختصر یہاں بیان کر دیتا ہوں کہ ماہ ربیع الاول دو ہجری کے شروع میں آپ صلی یہ ہم نے اپنے ایک قریبی رشتہ دار عبیدہ بن الحارث مطلبی کی امارت میں ساٹھ شتر سوار مہاجرین کا ایک دستہ روانہ فرمایا۔اس مہم کی غرض بھی قریش مکہ کے حملوں کی پیش بندی تھی۔میں سیرت خاتم النبیین کا ہی یہ حوالہ دے رہا ہوں چنانچہ جب عبیدہ بن الحارث اور ان کے ساتھی کچھ مسافت طے کر کے ثَنِيَّةُ الْمَرَہ کے پاس پہنچے تو اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ قریش کے دوسو مسلح نوجوان عکرمہ بن ابو جہل کی کمان میں ڈیرہ ڈالے پڑے ہیں۔فریقین ایک دوسرے کے سامنے ہوئے اور ایک دوسرے کے مقابلہ میں کچھ تیراندازی بھی ہوئی لیکن پھر مشرکین کا گروہ یہ خوف کھا کر کہ مسلمانوں کے پیچھے کچھ کمک مخفی ہو گی ان کے مقابلے سے پیچھے ہٹ گیا اور مسلمانوں نے ان کا پیچھا نہیں کیا۔البتہ مشرکین کے لشکر میں سے دو ص مقداد بن عمرو اور عُتبہ بن غزوان، عکرمہ بن ابو جہل کی کمان سے خود بخود بھاگ کر مسلمانوں کے ساتھ آملے اور لکھا ہے کہ وہ اسی غرض سے قریش کے ساتھ نکلے تھے کہ موقع پا کر مسلمانوں میں آملیں کیونکہ وہ دل سے مسلمان تھے مگر بوجہ اپنی کمزوری کے قریش سے ڈرتے ہوئے ہجرت نہیں کر سکتے تھے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے تجزیہ کیا ہے کہ اور ممکن ہے کہ اسی واقعہ نے قریش کو بد دل کر دیا ہو اور انہوں نے اسے بد فال سمجھ کر پیچھے ہٹ جانے کا فیصلہ کر لیا ہو۔تاریخ میں یہ مذکور نہیں ہے کہ قریش کا یہ لشکر جو یقینا کوئی تجارتی قافلہ نہیں تھا اور جس کے متعلق ابن اسحاق نے جمع عظیم یعنی ایک بہت بڑا لشکر کے الفاظ استعمال کیے ہیں، کسی خاص ارادے سے اس طرف آیا تھا لیکن یہ یقینی ہے کہ ان کی نیت بخیر نہیں تھی اور یہ خدا کا فضل تھا کہ مسلمانوں کو چوکس پا کر اور اپنے آدمیوں میں سے بعض کو مسلمانوں کی طرف جاتا دیکھ کر ان کو ہمت نہیں ہوئی اور وہ واپس لوٹ گئے اور صحابہ کو اس مہم کا یہ عملی